اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی، سنگین خطرہ

بلوچستان کے ضلع زیارت میں پولیس چوکی پر دہشت گردی کے واقعے میں پولیس کے نو اہلکاروں کی شہادت کا واقعہ دہشت گردی کے اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کا سامنا پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے کرنا پڑ رہا ہے۔اگرچہ سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے پندرہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تاہم پولیس اہلکاروں کا جانی نقصان اندوہناک ہے۔ ایک سکیورٹی تھنک ٹینک کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے267 واقعات ہوئے جن میں سے 92فیصد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء میں پاکستان کو افغانستان کی جانب سے 5300سے زائد دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں 1200سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ اعداد و شمار یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ ملک کے مغربی حصوں میں دہشت گردی کا اصل محرک افغانستان ہے۔ حالیہ واقعات میں ایک تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ دہشت گرد اپنے گھناؤنے مقاصد کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کی شہری آبادی پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے کیا جانے والا حملہ اس نئی حکمتِ عملی کا ثبوت ہے۔ اس سے قبل ٹانک‘ کرک اور باجوڑ میں بھی اس نوعیت کے حملے ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف سکیورٹی اداروں کو جدید حربی و فضائی نگرانی کے آلات اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی متقاضی ہے بلکہ دہشت گردی کے مستقبل سدباب کیلئے فوری اقدامات کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اسکی وجوہات کا جائزہ لیں تو دو بنیادی عوامل سامنے آتے ہیں۔ پہلا کالعدم تنظیموں کی جدید اور مہلک ہتھیاروں تک رسائی ہے۔ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد جو جدید ترین عسکری سازوسامان‘ بشمول نائٹ ویژن دوربینیں‘ تھرمل سکوپ اور جدید ترین رائفلیں وہاں رہ گئیں‘ وہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئیں اور ان ہتھیاروں نے دہشت گرد وں کی چھپ کر اور اندھیرے میں حملہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا۔ دوسرا بڑا عامل افغانستان سے دہشت گردوں کو بلا روک ٹوک ملنے والی کمک اور محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔جب تک اس کمک کا مستقل سدباب نہیں کیا جاتا‘ تب تک اندرونِ ملک سکیورٹی آپریشنز سے سو فیصد نتائج حاصل کرنا محال ہے۔

داخلی اسباب پر نظر ڈالی جائے تو یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دہشت گردوں کا زیادہ زور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے انہی اضلاع کی طرف ہے جہاں طویل عرصے سے غربت‘ بیروزگاری اور سماجی بدحالی دہشت گردی کی آگ کو بھڑکانے میں ایندھن کا کام کر رہی ہے۔لہٰذا سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کیساتھ ساتھ ان علاقوں کی سماجی و معاشی حالت کو سدھارنا بھی ریاست کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ قبائلی پٹی کے علاقوں میں فوجی کارروائیوں سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے بعد ان علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو ترقی دینا بنیاد ی منصوبے کا حصہ تھا۔ فوجی آپریشنز سے دہشت گردوں کی بیخ کنی کر دی گئی مگر ترقیاتی منصوبے جو سول حکومتوں نے انجام دینے تھے تشنہ تکمیل رہ گئے‘ یوں دہشت گردوں کیلئے اس زمین سے دوبارہ پنپنے کا امکان باقی رہ گیا۔

بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں بھی معاشی حالات دگرگوں ہیں جو انتہا پسندوں کو پروپیگنڈا کرنے اور مقامی لوگوں کو ورغلانے یا مجبور کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ حالات دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی کا تقاضا کرتے ہیں‘ جس میں آپریشنل کارروائیوں کے علاوہ متاثرہ علاقوں کی سماجی اور معاشی ترقی سے انہیں مضبوط کرنے کی منصوبہ بندی بھی ہونی چاہیے۔ دہشت گردی سے ہم قومی وملکی سطح پر بہت نقصان اٹھا چکے‘ اب قومی یکجہتی کے ساتھ صف آرا ہونا ہو گا اور پائیدار حکمت عملی کیساتھ ان خطرات سے نمٹنا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں