مہنگائی کا نہ تھمنے والا سلسلہ
مہنگائی پر قابو پانے کے حکومتی دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق اسکے برعکس ہیں۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 9 جولائی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح بھی تقریباً 12 فیصد رہی۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو تاحال کوئی حقیقی ریلیف نہیں مل سکا۔ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا فائدہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں عام صارف تک کیوں نہیں پہنچا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب متعلقہ اداروں اور حکومتی ذمہ داران کو دینا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران نہ تو ٹرانسپورٹ کرایوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے تناسب سے خاطر خواہ کمی آئی ہے اور نہ ہی روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کوئی نمایاں کمی آئی ہے۔ ملک میں پرائس کنٹرول‘ صارفین کے تحفظ اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کیلئے متعدد سرکاری محکمے اور قوانین موجود ہیں مگر اس سب کے باوجود عوام کو ریلیف میسر نہیں آ رہا۔ اس وقت سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہے جس کی آمدن محدود اور اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے متعلقہ اداروں کو عملی اقدامات کا پابند کرے۔