اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آبادی میں اضافے کے اثرات

گیارہ جولائی کو عالمی یوم آبادی منایا جاتا ہے اور اس مناسبت سے ہمارے لیے بڑھتی آبادی اور اس کے مسائل پر غور کرنے کا مناسب موقع ہے۔ آبادی کا حجم کسی ملک میں معیارِ زندگی‘ سماجی ترقی اور نمو کے امکانات کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ دستیاب وسائل کی تقسیم جتنے نفوس میں ہو گی ہر ایک کا حصہ کم ہوتا جائے گا اور کم وسائل کیساتھ پروان چڑھنے والی آبادی کی صلاحیتوں پر اسکے اثرات ہوں گے۔ یہ اصول صحت‘ تعلیم‘ روزگار کے مواقع ‘ شہری سہولیات غرض زندگی کے ہر شعبے پر مؤثر ہے اور اس کا اندازہ کسی ملک میں انسانی ترقی کی شرح (ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس) سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی 24کروڑ 14لاکھ تھی اور 2017ء میں 20کروڑ 76 لاکھ۔ یعنی آبادی میں 2.55 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہوا‘ اور اسی شرح کو مدنظر رکھا جائے تو آبادی میں سالانہ 61لاکھ نفوس کا اضافہ ہو رہا ہے اور 2023ء سے اب تک آبادی ایک کروڑ 90 لاکھ مزید بڑھ چکی ہے۔ یہ تیز ترین اضافہ آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پاکستان کے درجے کو بڑی تیزی سے بڑھا رہا ہے۔

عالمی آبادی میں پاکستان کے اوپر کے چاروں ممالک میں آبادی میں اضافے کی شرح سالانہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ نے 2023ء کی ایک رپورٹ میں تخمینہ لگایا تھا کہ 2050ء تک پاکستان کی آبادی 40کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔ آبادی میں غیر معمولی اضافے کے معیارِ زندگی پر منفی اثرات شدت کیساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ انسانی ترقی کے حالیہ اعداد وشمار سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان 193ممالک میں 168 ویں نمبر پر ہے جو 35 سال کی کم ترین سطح ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت‘ بیروزگاری‘ وسائل کی کمی اورزندگی کی آسائشوں کی کمیابی کا آبادی میں غیر معمولی اضافے سے براہِ راست اور قریبی تعلق ہے۔ پچھلی ایک سے ڈیڑھ دہائی کے دوران ملک کے تقریباً سبھی بڑے شہروں اور بیشتر دیہی علاقوں کے پھیلاؤ کا حیران کن رجحان دیکھا گیا۔ بڑھتی آبادی اور وسائل کی کمی اندرون ملک نقل مکانی کے رجحان میں بھی اضافے کا سبب بنی اور دیہی علاقوں یا چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں کی جانب انتقالِ آبادی کا رجحان شدت اختیار کر گیا۔ اسکے اثرات شہروں میں وسائل اور سہولتوں کے علاوہ امن وامان کی صورتحال پر بھی مرتب ہوئے۔ شہری سہولتوں پر دباؤ کئی گنا بڑھ گیا‘ نتیجتاً ان سہولتوں کے معیار کا متاثر ہونا قدرتی امر تھا۔

آبادی میں بے تحاشا اضافے کے اثرات کا یہ اثر بھی ہوا کہ عوامی فلاح وبہبود پر قومی اخراجات افسوسناک حد تک کم ہیں۔ صرف صحت اور تعلیم پر فی کس اخراجات کو دیکھ لینا کافی ہو گا۔ پاکستان صحت پر فی کس سالانہ 31ڈالر اور تعلیم پر 11ڈالرخرچ کرتا ہے‘ یہ اخراجات جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان مسائل کے اصل سبب یعنی آبادی میں بے تحاشا اضافے کو کیونکر کنٹرول کیا جائے۔ اس سلسلے میں پاکستان کو اپنی مثالوں ہی سے سیکھنا چاہیے۔ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے 1960ء کی دہائی میں آبادی میں اضافے کے اثرات کا ادراک کیا اور آبادی کی منصوبہ بندی کیلئے پالیسیاں بنائیں اور اقدامات شروع کیے۔ مگر اُسوقت سے اب تک آبادی چھ گنا بڑھ چکی ہے۔ آبادی کی منصوبہ بندی کی پالیسیوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔

جب تک ان رکاوٹوں کا تعین کر کے ان کے ازالے کا یقینی بندوبست نہیں کیا جاتا آبادی میں اضافے کی شرح کی روک تھام ممکن نہیں۔ آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار کے ساتھ ہم تباہ کن صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں‘ اس میں دو رائے نہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس پر قابو پانے کی کیا تدبیر ہونی چاہیے؟ یہ قومی اہمیت کا سوال ہے اور مستقبل میں پاکستان اور پاکستانی قوم کی ترقی کا بہت حد تک دارو مدار اس پر ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں