اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ٹیوشن سنٹرز‘ بچوں کا تحفظ ناگزیر

ابھی کاہنہ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے کو دو ہفتے بھی نہیں گزرے تھے کہ لاہور کے علاقے اچھرہ میں ایک ٹیوشن سنٹر میں 12 سالہ طالبہ کی پُراسرار موت نے ایک بار پھر ٹیوشن سنٹروں میں بچوں کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ٹیوشن سنٹرز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے لیکن ان کی اکثریت کسی مؤثر سرکاری نگرانی‘ رجسٹریشن یا حفاظتی معیار کی پابند نہیں۔ والدین اپنے بچوں کو بہتر تعلیم کی امید میں ان مراکز پر بھیجتے ہیں مگر انہیں یہ یقین بھی ہونا چاہیے کہ وہاں انکی جان و مال اور عزت و وقار محفوظ ہیں۔ ضروری ہے کہ حکومت‘ ضلعی انتظامیہ‘ محکمہ تعلیم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر ٹیوشن سنٹروں کیلئے واضح اور قابلِ عمل ایس او پیز مرتب کریں۔

ٹیوشن سنٹرز کی رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے جسے عمارت کے معیاری ہونے کیساتھ ساتھ بچوں کیلئے بنیادی حفاظتی تقاضوں سے مشروط کیا جائے۔ تعلیمی مراکز میں بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہونا باعثِ تشویش ہے۔ اچھرہ اور کاہنہ جیسے افسوسناک واقعات کو محض ایک اور خبر سمجھ کر فراموش کرنے کے بجائے انہیں اصلاحِ احوال کا موقع بنایا جانا چاہیے۔ اگر آج مؤثر قانون سازی‘ سخت نگرانی اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو کل کسی اور خاندان کو اسی کرب سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ بچوں کا تحفظ ریاست‘ اداروں اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں