اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آٹا بحران

 آٹے کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کرنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مختلف شہروں میں 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2900 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ نان بائیوں نے بڑھتی لاگت کا جواز پیش کرتے ہوئے سرکاری نرخ 14 روپے کے بجائے روٹی 25 روپے اور نان 20 کے بجائے 30 روپے میں فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کیلئے یہ اضافہ کسی نئے معاشی صدمے سے کم نہیں کیونکہ آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی لاکھوں خاندانوں کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں زرخیز زرعی زمین اور گندم کی وافر پیداوار کی صلاحیت موجود ہے لیکن ناقص منصوبہ بندی‘ غیر مستقل پالیسیوں اور انتظامی کمزوریوں کے باعث تقریباً ہر سال گندم اور آٹے کا بحران جنم لیتا ہے۔

ابھی گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آئے صرف چار ماہ ہوئے ہیں لیکن گزشتہ سال کے مقابلے میں 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت تقریباً 1250روپے بڑھ چکی ہے۔ضروری ہے کہ حکومت گندم اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی‘ بلیک مارکیٹنگ‘ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔ اس کیساتھ ساتھ حکومت کو طویل مدتی اور جامع گندم پالیسی بھی تشکیل دینی چاہیے ۔ جب تک زرعی پالیسیوں کا تسلسل‘ شفافیت اور مؤثر نگرانی یقینی نہیں بنائی جاتی‘ زرعی بحران ختم نہیں ہو سکتا اور خوراک کی قیمتیں قابو میں نہیں آ سکتیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں