اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آبنائے ہرمز کا تنازع

خلیج فارس کے خطے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اس کے علاقائی و عالمی اثرات باعثِ تشویش ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک بار پھر امریکہ اور ایران میں میدانِ جنگ بنی ہوئی ہے اور اس اہم گزر گاہ سے بحری تجارت ایک بار پھر انتہائی کم ہو چکی ہے۔ ’میرین ٹریفک‘ پلیٹ فارم کے مطابق منگل کے روز صرف چار بحری جہاز‘ ایک آئل ٹینکر اور تین کنٹینرشپ آبنائے ہرمز سے گزر سکے۔ 17جون کو ایم او یو پر دستخط کے بعد ادھر سے گزرنے والے جہازوں کی یہ سب سے کم تعداد تھی۔ دونوں متحارب ملک ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکہ ایران میں پچھلے کئی روز سے بمباری کر رہا ہے اور ایران ہمسایہ ممالک میں امریکی اہداف کو۔ اس دوران ایک نہایت تشویشناک واقعہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سوموار کی رات سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملہ تھا‘ جسے سعودی فضائی دفاع نے ناکام بنا دیا۔ پاکستان کی جانب سے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے کو ناقابلِ قبول اور خطے کے امن واستحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

پاکستان نے خلیجی خطے کی صورتحال کو اس نہج تک پہنچنے سے بچانے کے لیے غیر معمولی اور انتھک محنت کی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں خطے میں پائیدار امن کی مضبوط بنیاد بھری جا چکی تھی کہ امریکہ اور ایران کی بے اعتمادی نے امن کے بجائے انہیں تصادم کی راہ پر ڈال دیا۔ یوں جنگ کے بادل جو چھٹ چکے تھے‘ ایک بار پھر خطے کے آسمانوں پر اکٹھے ہو چکے ہیں اور صورتحال پہلے سے زیادہ گمبھیر نظر آتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کو آبنائے ہرمز کے چوکیدار کے طور پر پیش کرنے لگے ہیں‘ جس کے لیے انہوں نے ادھر سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد کے برابر وصولی کا مطالبہ کر دیا۔ اگرچہ گزشتہ روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے 20 فیصد محصول کے اعلان سے تو یوٹرن لے لیا البتہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے عزم پر اسی طرح قائم ہیں۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور خطے میں کشیدگی کا اثر توانائی کی منڈیوں میں شدت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت منگل کے روز 85 ڈالرفی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ اگرچہ یہ ایک ماہ کی بلند ترین سطح ہے تاہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی‘ جس میں امریکہ اور ایران دونوں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں‘ کچھ روز اسی طرح جاری رہی تو تیل کی قیمتوں میں اس سے زیادہ اضافہ خارج از امکان نہیں۔

یہ واضح ہے کہ خلیج کے علاقے میں تصادم کی صورتحال یہی رہی تو نہ صرف پورا خطہ بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہو گی اور اس کے بھیانک اثرات سے نکلنے میں نجانے کتنا وقت لگے۔ اس لیے وہی قوتیں جو پہلے اس بحران میں بروئے کار آئیں انہیں ایک بار پھر آگے بڑھنا اور دنیا کو اس تباہی سے بچانا ہو گا جو اس تصادم میں واضح دیکھی جا سکتی ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا خلیج کے علاقے کی جنگ وجدل کے یکساں متاثرین ہیں۔ فروری آخر سے شروع ہونے والی کشیدگی نے پہلے ہی عالمی معیشت کی صلاحیت کو بڑی حد تک نچوڑ لیا ہے۔ اس آگ کا دوبارہ بھڑک اٹھنا خوفناک المیے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان سمیت وہ سبھی ممالک جو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے لیے متحرک تھے‘ ایک بار پھر اس کارِ خیر کے لیے کمر ہمت باندھ لیں۔ اگرچہ یہ عمل پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور دشوار ہو چکا ہے مگر امن کا قیام ہی علاقائی اور عالمی مفاد کی واحد صورت ہے۔ دوسری صورت میں تباہی اور اس کے لامتناہی اثرات ہیں۔

بظاہر اب کے وجہ تنازع آبنائے ہرمز اور اس کا انتظام ہے‘ اوریہ مسئلہ بھی فروری آخر میں امریکی جنگ کی دین ہے۔ اس سے پہلے اس آبی گزرگاہ پر اختیار اور قبضے کا کوئی سوال نہ تھا۔ بھرپور کوشش کی جانی چاہیے کہ یہ تنازع خوش اسلوبی سے حل ہو جائے اور امن بحال ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں