نان ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی
وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026ء میں ملک کی نان ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 14فیصد کمی کے بعد 12 ارب 21 کروڑ ڈالر تک رہیں جبکہ مالی سال 2025ء میں ان کا حجم 14 ارب 16 کروڑ ڈالر تھا۔ سب سے شدید دھچکا زرعی برآمدات کو لگا جن میں 30فیصد کمی آئی اور یہ پانچ ارب دو کروڑ ڈالر تک محدود رہیں۔ اسی طرح کینوس کے جوتوں کی برآمدات 33 فیصد‘ قالینوں اور دریوں کی برآمدات 20 فیصداور خام چمڑے کی برآمدات میں چھ فیصد کمی ہوئی جبکہ آلاتِ جراحی کی برآمدات بھی منفی رجحان دیکھنے میں آیا۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان آلاتِ جراحی کا اہم پیداواری ملک ہونے کے باوجود ان مصنوعات کی اصل برانڈ ویلیو سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کر پا رہا۔

صرف ٹیکسٹائل کا شعبہ ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں پائیدار استحکام نہیں لا سکتا۔ حکومت کو معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے زراعت‘ انجینئرنگ‘ لیدر‘ سرجیکل‘ فوڈ پروسیسنگ اور دیگر شعبوں کو یکساں اہمیت دینا ہو گی۔ حکومت کو نان ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم بڑھانے کیلئے زرعی پیداواری صلاحیت بڑھانے‘ ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے‘ برآمد کنندگان کو سہولتیں فراہم کرنے‘ نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اورمیڈ اِن پاکستان مصنوعات کی عالمی برانڈنگ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔