اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گندم بحران

ملک میں گندم کا بحران پیچیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ نئی فصل کی آمد کو ابھی صرف چار ماہ ہی گزرے ہیں مگر تین صوبوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے وفاق سے گندم طلب کرنا پڑ گئی ہے۔ پنجاب نے وفاقی ذخائر سے 10 لاکھ ٹن‘ سندھ نے دو لاکھ 20 ہزار ٹن اور خیبر پختونخوا نے آٹھ لاکھ ٹن گندم فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب وفاقی ذخائر محدود ہونے کی وجہ سے گندم درآمد کرنے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگر ایسا کرنا پڑا تو ایک طرف قیمتی زرِ مبادلہ خرچ ہو گا اور دوسری طرف موجودہ علاقائی کشیدگی اور عالمی سپلائی چین کی غیر یقینی صورتحال کے باعث فوری درآمد بھی آسان نہیں۔ اکنامک سروے کے مطابق مالی سال 2026ء میں گندم کی مجموعی پیداوار دو کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی‘ جو مالی سال 2025ء کے مقابلے میں 4.3 فیصدزیادہ تھی۔

یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ملک کو درپیش اصل مسئلہ گندم کی پیداوار کا نہیں بلکہ اس کی منصوبہ بندی‘ خریداری‘ سٹوریج اور تقسیم کے انتظامی نظام کا ہے۔ صوبوں میں زراعت سے متعلق محکمے موجود ہیں مگر اسکے باوجودگندم کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی نہیں‘ نتیجتاً عوام کو ہر سال گندم اور آٹا بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ضروری ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر گندم کی کاشت‘ پیداوار‘ خریداری‘ سٹوریج اور بین الصوبائی ترسیل کیلئے ایک واضح اور قابلِ عمل قومی پالیسی مرتب کریں۔ اس کیساتھ ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اور مارکیٹ میں مداخلت کرنیوالے عناصر کیخلاف کارروائی بھی کرنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں