اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سیلاب کے خدشات اور پیشگی احتیاط

پاکستان کے بالائی اور میدانی علاقوں میں مون سون بارشوں سے دریائوں میں پانی کا بہائو بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ ملک کے بڑے دریاؤں کے واٹر شیڈ میں مغربی ہواؤں کے سلسلے اور بحیرہ عرب و خلیج بنگال سے آنے والے مون سون سلسلوں کے امتزاج کے باعث محکمہ موسمیات پانی کے بہائو میں مزید اضافے اور بڑے دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب کے خدشات ظاہر کر رہا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے چناب اور جہلم میں اونچے درجے کے سیلاب سے خبردار کیا ہے۔ مون سون کے موسم میں جب دریاؤں میں طغیانی آتی ہے تو ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جاتے اور اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اس موقع پر حکومتی و انتظامی سطح پر کچھ ہلچل دکھائی دیتی ہے مگر پانی اترنے کیساتھ ہی تمام جوش وجذبہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ ورلڈ بینک اور دیگر عالمی اداروں کی پاکستان میں سیلابوں سے متعلق اسیسمنٹ رپورٹس میں ملکی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام پر متعدد سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہمارا ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا نظام اس وقت فعال ہوتا ہے جب آفت سر پر آ جاتی ہے۔ پیشگی تیاری‘ خطرات کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی‘ انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے فقدان نے مون سون کو جان لیوا بنا دیا ہے۔ اگر گزشتہ دو سیلابوں کا جائزہ لیا جائے تو 2022ء کے سیلاب میں 1700 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریباً سوا تین کروڑ لوگ بے گھر ہوئے تھے۔

2025ء میں کم و بیش ایک ہزار افراد جاں بحق اور 35 لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے ۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو تین عشروں میں سیلابوں سے 59 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہو چکا۔ 1992ء سے 2021ء کے دوران موسمیاتی آفات سے تقریباً 29 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ صرف 2022ء کے سیلابوں سے 28 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ پے درپے سیلابوں کے باعث ملکی معیشت کو افراطِ زر سمیت وسیع تر خطرات لاحق ہیں جن سے پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول اور ترقیاتی اہداف کی تکمیل کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ پانچ برس میں یہ تیسرا موقع ہے کہ ملک پہ ایک مرتبہ پھر سیلاب کے خدشات منڈلا رہے ہیں۔ اگرچہ پورا خطہ اس وقت شدید بارشوں کی زد میں ہے مگر ہمیں اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ مون سون میں طغیانی اچانک آنے والی قدرتی آفت نہیں رہی بلکہ اس خطے میں ایک نیا موسمیاتی پیٹرن تشکیل پا چکا ہے اور ہمیں اب خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔

مسلسل کئی سالوں کے سیلابی تجربات کے باوجود ملک میں مربوط وارننگ سسٹم کا فقدان ہے۔ جب سیلابی ریلا بستیوں کو ڈبو رہا ہوتا ہے تب جا کر امدادی ٹیمیں حرکت میں آتی ہیں۔ اس تباہ کن دائرے سے نکلنے کیلئے روایتی طریقوں کو خیرباد کہنا ہوگا۔ پالیسیوں کے محور کو ریلیف اور ریسکیو سے ہٹا کر پیشگی تیاری اور تخفیفِ خطرات کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کے راستوں پر تجاوزات‘ دریائی گزرگاہوں میں کنکریٹ کے جنگلات اور سیلابی پاٹ میں آباد کاری آفت کو خود دعوت دینے کے مترادف ہے۔ دریائی کناروں اور فلڈ پلین میں کسی بھی قسم کی تعمیرات پر مستقل پابندی عائد کرنا ہو گی۔ اگر ہم نے دریاؤں کو سانس لینے کی جگہ نہ دی تو لامحالہ دریا ہمارے شہروں اور کھیتوں کا رخ کریں گے۔

فی الحال ملکی دریائوں میں پانی کا بہائو خطرے کے نشان تک نہیں پہنچا‘ یہ وقت ہے کہ صوبائی و ضلعی انتظامیہ دریائوں کے بہائو میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں اور دریائی کناروں سے تجاوزات کا خاتمہ کریں۔ اگر پانی کے بہائو کا راستہ صاف اور وسیع ہو جائے تو پانی آبادیوں میں داخل ہوئے بغیر اپنا راستہ لے گا‘ وگرنہ دوبارہ ویسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ہم پچھلے سال بھی بھگت چکے اور ابھی تک اس کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں