مہنگائی میں مزید اضافہ
وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 23جولائی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی کی شرح 9.66 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ اضافہ ٹماٹرکی قیمت میں‘ 253 فیصد ہوا جبکہ پیاز کی قیمت میں 81 فیصد‘ آٹا 74 فیصد‘ ایل پی جی 46 فیصد‘ ڈیزل 31 فیصد‘ بجلی 22 اور پٹرول کی قیمت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پٹرول کی قیمت میں 20 اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لٹر سے زائد اضافہ ہوچکا۔ اگرچہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں ان کے نرخ بڑھنا ہے لیکن پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر ناجائز منافع خوری کا جو بازار گرم ہے اس نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔

حکومت کی جانب سے جیسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی ردو بدل پر بھی فوری عملدرآمد یقینی بنایا جاتا ہے‘ اشیائے ضروریہ کے سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی ایسا سخت انتظام کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب عوام کی روز بروز کم ہوتی معاشی سکت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بے روزگار طبقے کو روزگار کی آسان فراہمی اور عوام کی معاشی سکت بڑھائے بغیر مہنگائی کا خاتمہ ممکن نہیں۔اس لیے حکومت کو اس جانب بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔