گندم درآمد کا فیصلہ
ملک میں گندم کے سنگین بحران کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے اور سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان جیسے زرخیز زرعی ملک کو‘ جہاں گندم بنیادی فصل ہے‘ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدات کا سہارا کیوں لینا پڑ رہا ہے؟ اکنامک سروے 2026ء کے مطابق حالیہ سیزن میں ملک میں گندم کی پیداوار دو کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی جبکہ گزشتہ برس کے تقریباً 20 لاکھ ٹن ذخائر بھی موجود تھے۔ 115 کلوگرام فی کس سالانہ کھپت کے حساب سے ملک کی مجموعی ضرورت تقریباً تین کروڑ چھ لاکھ ٹن بنتی ہے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پیداوار اور دستیابی بظاہر ملکی ضرورت کے مطابق تھی مگر اسکے باوجود حکومت کو گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا ۔

یہ صورتحال محض پیداوار کی نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی‘ کمزور سپلائی چین اور مؤثر نگرانی نہ ہونے جیسے انتظامی و پالیسی مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ امر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ درآمدی گندم مقامی گندم کے مقابلے میں مہنگی پڑتی ہے جس کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مستقبل میں گندم کے حوالے سے دیرپا حکمتِ عملی ضروری ہے تاکہ ہر سال گندم بحران جنم نہ لے۔ حکومت کو اپنی زرعی پالیسیوں خصوصاً گندم پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔ ساتھ ہی ذخیرہ اندوزی‘ مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی بھی ضروری ہے۔