اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پائیدار امن کیلئے سفارتی کوششوں کی ضرورت

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب کیساتھ ملاقات میں خطے کی صورتحال پر پاکستان کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور فریقین کو پائیدار امن کیلئے سفارتی کوششیں شروع کرنے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عملدرآمد اور تعاون کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کیلئے کردار ادا کرے۔ اس میں شک نہیں کہ مذاکرات‘ سفارتکاری اور باہمی احترام ہی تنازعات کے حل اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کا واحد پائیدار راستہ ہے۔ دنیا دیکھ چکی ہے کہ طویل اور تباہ کن تنازعات بھی بالآخر مذاکرات کے ذریعے طے پاتے ہیں۔ طاقت کی ایک حد ہوتی ہے اورکوئی بھی طاقت ہمیشہ جنگ نہیں لڑ سکتی ؛ چنانچہ امن کے مواقع کی قدر کرنی چاہیے اور ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ امریکہ ایران تصادم میں پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد یادداشت کی صورت میں قابلِ قدر پیشرفت ہوئی تھی مگر بدقسمتی سے فریقین اس روش پر چند قدم ہی آگے بڑھ سکے اور پھر تصادم کی جانب پلٹ گئے۔

یہ افسوسناک صورتحال قریب دو ہفتوں سے دو طرفہ حملوں کی صورت میں جاری ہے اور دونوں جانب جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ مگر سب سے بڑا نقصان مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن کے امکانات کو لاحق خطرات کا ہے۔ دنیا کا یہ حصہ توانائی کی دولت سے مالا مال اور عالمی سرمایہ کاری کے جدید ترین انفراسٹرکچر کی بدولت دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کیلئے پُرکشش ہے‘ جسے ایران پر امریکی حملے سے پیدا ہونیوالے عدم استحکام نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا ترقیاتی ماڈل اس قسم کے حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس خطے کی ترقی یہاں کے سیاسی‘ معاشی اور سکیورٹی استحکام کی وجہ سے ہے‘ یہی اس خطے کے سرکردہ ممالک کی وجہ شہرت رہی ہے۔ مگر ایران کے خلاف امریکی جنگ نے ترقی کے اس ماڈل کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور اسکے اثرات غیر معمولی ہیں۔ معاشی نقطۂ نظر سے اس تباہ کن صورتحال سے نکلنا صرف اس خطے کے ممالک کی ضرورت نہیں یہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے‘ اور اس کیلئے سفارتی اقدامات کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ امریکہ ایران جنگ کے اس دوسرے راؤنڈ میں کشیدگی کے پھیلاؤ کے اندیشے زیادہ باعثِ تشویش ہیں۔

تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھو کر پیچھے ہٹی ہیں مگر بعید نہیں کہ کشیدگی شدت اختیار کرے تو توانائی کا عالمی بحران خوفناک صورت اختیار کر جائے۔ آبنائے ہرمز میں سے جہازوں کی آمدورفت عملاً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ تیل کی ایک چوتھائی عالمی کھپت کے برابر کمی کا سامنا ہے۔ اسکے اثرات قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ ایران اور خلیجی ریاستوں کیلئے مناسب ہے کہ اس کشیدگی کو باہمی دشمنی اور طویل مدتی رنجش کا سبب بننے سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کریں کیونکہ ایران اور امریکہ کے معاملات کی جو بھی صورت ہو مگر خطے کے ممالک اور ایران نے یہیں رہنا ہے؛ چنانچہ کشیدگی اس درجے کو نہ پہنچے کہ ان زخموں کو بھرنا ممکن نہ رہے۔ ایران اور عرب ممالک کا مفاد باہمی تعلقات کی بہتری میں ہے۔ ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک میں کیے جانیوالے حملوں پر ان ممالک کی حکومتوں اور عوام کی تشویش سمجھ میں آتی ہے۔

ہرچند کہ ایران ان حملوں کا ہدف امریکی مفادات کو قرار دیتا ہے۔ ان حالات میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کیساتھ کشیدگی کو ہوا دینے اور بحری ناکہ بندی کی باتیں مزید تشویش کا موجب ہیں۔ ایران اور خطے کے عرب ممالک کو اعتماد سازی اور اچھی ہمسائیگی پر مبنی تعلقات کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں