غیر ضروری وزارتوں کا بوجھ
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کے مطابق غیرضروری وفاقی وزارتوں کے خاتمے سے سالانہ پانچ ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک مسلسل مالی دباؤ‘ بڑھتے قرضوں‘بھاری ٹیکسوں اور اخراجات میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔ وفاق میں اسوقت 32 وزارتیں ہیں جن میں بعض ایسی وزارتیں یا ڈویژنز بھی شامل ہیں جن کے متعدد امور 18ویں ترمیم کے بعد آئینی طور پر صوبائی دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں۔ یہ انتظامی تکرار قومی وسائل پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔ اصل مسئلہ وزارتوں کی تعداد سے زیادہ حکومتی ڈھانچے کا غیر ضروری پھیلاؤ ہے۔ ہر اضافی وزارت اپنے ساتھ وزرا‘ مشیروں‘ سرکاری گاڑیوں‘ دفاتر‘ عملے‘ رہائش اور دیگر مراعات کا ایک مستقل مالی بوجھ بھی لاتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی خزانے کی کمی پوری کرنے کیلئے عوام پر نئے نئے ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں ۔ ضروری ہے کہ وفاقی حکومت آئین کے مطابق تمام وزارتوں‘ منسلک اداروں اور خودمختار بورڈز کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرائے اور ڈپلیکیٹ محکموں کو یکجا کرے۔ اگر حکومت واقعی غیر ضروری وزارتوں اور فضول اخراجات کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ عوام کو بھی ٹیکسوں میں ریلیف‘ بہتر خدمات اور ریاستی وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال کی صورت میں اسکے ثمرات مل سکتے ہیں۔