اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سرحدی دہشت گردی اور افغانستان

 خیبر پختونخوا اور بلوچستا ن میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات باعثِ تشویش ہیں۔ ملکِ عزیز کے یہ دونوں صوبے ایک مدت سے شدت پسندی کا سامنا کر رہے ہیں اور سکیورٹی ادارے قومی دفاع کیلئے اپنی پوری صلاحیتوں کیساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ دہشتگردوں کیخلاف خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائیوں کی خبریں آئے روز موصول ہوتی ہیں اور وقتاً فوقتاً باقاعدہ آپریشن بھی ۔ بلوچستان میں پچھلے دنوں چمن کے علاقے میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد آپریشن شعبان کے تحت انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جبکہ مستونگ کے علاقے میں حالیہ دنوں آپریشن العزم کے نام سے کارروائیاں جاری ہیں جن میں خبروں کے مطابق درجن بھر انتہا پسندوں کو ہلاک اور انکے ٹھکانوں اور کمین گاہوں کو تباہ کیا گیا۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں اگلے روز دہشتگردی کے ایک واقعے میں وطن عزیز کے 15سپوت شہید ہوگئے جبکہ گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان میں بروقت کارروائی کر کے ایک بڑے حملے کو ناکام بنایا اور کم از کم چار دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ملک کے ان حصوں میں بد امنی کا براہِ راست تعلق سرحد پار کے حالات اور محرکات سے ہے۔

سرحدپار دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کی داخلی سلامتی کیلئے مسلسل خطرہ ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کی سلامتی کا تقاضا ہے کہ دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا مؤثر سدباب کیا جائے ۔ افغانستان پاکستان کیلئے سکیورٹی خدشات کا مستقل محرک ہے۔ ماضی میں جب غیر ملکی افواج کا وہاں تسلط تھا اور انہی کی چھتری تلے افغان حکومتی ڈھانچہ کھڑا کیا گیا تو دہشتگرد عناصر کا تسلط قبائلی پٹی تک وسیع تھا‘جن کا قلع قمع کرنے کیلئے پاکستان نے طویل جدوجہد کی اور بے پناہ قربانیاں دیں۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد امید تھی کہ افغان اچھے ہمسائے کی طرح نئی شروعات کریں گے اور اپنی زمین کو پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے مگر یہ آرزو بری طرح ناکام ہوئی اور طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کیساتھ ہی پاکستان میں دہشتگردی کا دور عود کر آیا۔ یہ صورتحال اتفاقیہ نہیں تھی ‘ اسکے محرکات افغانستان کی زمین پر موجود تھے اور بدستور ہیں‘ جن سے نمٹنا وہاں کی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر یہ ذمہ داری کبھی پوری نہیں کی گئی۔ پاکستان میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ افغانستان عملاً پاکستان  کیلئے دشمن عناصر کی آماجگاہ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ ایسی افسوسناک صورتحال ہے جس کی پاکستان کو ہر گز امید نہ تھی۔ دونوں ملکوں کے ثقافتی ‘ تجارتی اور تاریخی تعلقات کی نوعیت ایسی رہی ہے کہ انہیں آسانی سے جدا نہیں کیا جاسکتا تھا۔

افغانستان کے ہر طرح کے داخلی بحران میں ہر موقع پر پاکستان وہاں کے عوام کیلئے امیدوں کا مرکز ثابت ہوا اور اس ملک نے افغانوں کی کئی نسلوں کی پرورش کی۔ دونوں ملکوں میں 2600کلومیٹرسے زائد مشترکہ سرحد اور سرحد پار قبائل کی نسلی ‘ لسانی و ثقافتی جڑیں بہت گہری رہی ہیں۔ اس تعلق کا تقاضا تھا کہ اس کی آبیاری کی جاتی اور افغانستان پاکستان کیلئے صحیح معنوں میں دوست اور بھائی ثابت ہوتا۔ ایسا نہ ہونا باعثِ افسوس ہے۔پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور افغان سر زمین کا پاکستان کے دشمن عناصر کیلئے محفوظ ٹھکانا ثابت ہونا صرف پاکستان کیلئے نہیں افغانستان کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ پاکستان افغانستان کیلئے بحری تجارت سے لے کر وہاں کے عوام کی ضروریاتِ زندگی اور علاج معالجے کی سہولیات کا بنیادی ذریعہ تھا ۔مگر طالبان کی عبوری حکومت کی غفلت اور کینہ توزی نے افغانستان کو ان آسائشوں سے محروم کر دیا۔ دونوں ملکوں میں اچھے تعلقات کا امکان افغانستان کیجانب سے قومی سلامتی کے خطرات کے خاتمے سے مشروط ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں