پٹرولیم قیمتیں اور ٹیکس
حکومت کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کے فیصلے کے بعد سے عوام کو مسلسل مہنگائی کے جھٹکے برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ گزشتہ پانچ روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 20 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 29 روپے فی لٹر سے زائد اضافے کے بعد پٹرول 335 روپے 18 پیسے اور ڈیزل 383 روپے 46 پیسے فی لٹر تک پہنچ چکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے کی وجہ سے نہ صرف نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں بلکہ اس کے اثرات روزمرہ استعمال کی ہر چیز پر بھی منتقل ہو رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ مقامی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے صرفِ نظر ممکن نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کا ایک بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں اور مارجنز پر مشتمل ہے۔

اس وقت فی لٹر پٹرول پر 108 روپے 67 پیسے اور ڈیزل پر 96 روپے 86 پیسے پٹرولیم لیوی‘ ٹیکسوں اور مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ عوام صرف عالمی قیمتوں کا ہی نہیں بلکہ بھاری مقامی ٹیکسوں کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر چکی ہے‘ حکومت کو کم از کم پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی اور دیگر محصولات میں کمی کرنی چاہیے۔ اس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی کی راہ ہموار ہو گی۔