اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خطرناک عمارتیں، خاموش خطرہ

گزشتہ روز لاہور اور فیصل آباد میں دو خستہ حال مکانوں کی چھتیں گرنے سے 13افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ ہر سال مون سون میں ایسے حادثات معمول بن چکے ہیں‘ لیکن کسی چھت یا عمارت کا اچانک گر جانا محض قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اکثر یہ خستہ حال تعمیرات‘ بروقت مرمت نہ ہونے‘ غیر معیاری تعمیر‘ اضافی بوجھ اور حفاظتی اصولوں سے غفلت کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ اگر مون سون سے قبل خطرناک عمارتوں کی نشاندہی‘ ان کا معائنہ اور ضروری مرمت کو یقینی بنایا جائے تو ایسے بہت سے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں شہریوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ خستہ حال گھروں میں رہنے والے افراد کو بارشوں کے آغاز سے پہلے اپنی چھتوں‘ دیواروں اور بنیادوں کا معائنہ کرانا چاہیے۔

اگر مکان رہائش کے قابل نہ رہے تو وقتی طور پر متبادل انتظام کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ انسانی جان کسی بھی مالی نقصان سے زیادہ اہم ہے۔ دوسری جانب متعلقہ ادارے بارشوں سے قبل خستہ حال عمارتوں کا باقاعدہ سروے کریں اور جہاں ضرورت ہو وہاں فوری حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ صوبائی حکومتوں کو گھروں کی تعمیر و مرمت کیلئے نرم اور آسان شرائط پر قرضوں کی سکیموں پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ کم آمدن اور مستحق خاندان اس سہولت سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھا سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں