اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ اس بار یہ مطالبہ پہلی اکنامک سمٹ میں ملک کی سرکردہ شخصیات کی جانب سے کیا گیا ہے جنہوں نے ملک میں انتظامی و مالیاتی ڈھانچے کی بہتری اور گورننس کے مسائل کے حل کیلئے نئے صوبوں کی ضرورت کا احساس اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ہی مسائل کا حل ہیں‘ عام آدمی کو بنیادی سہولتیں چاہئیں جو ہم نہیں دے پاتے‘ آج بھی لوگ گھنٹوں سفر کر کے عدالت جاتے ہیں۔ وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبوں کے معاملے کو عوامی سطح پر لے کر جانا ہوگا۔ چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود کااکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس نہ بنانے سے گورننس کے مسائل بڑھ رہے ہیں‘ صوبے کے ہر علاقے تک پہنچنا‘ ہر مسئلے کو خود دیکھنا اور ہر شہری تک رسائی حاصل کرنا ایک ہی انتظامی ڈھانچے کیلئے ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر احسن بھون کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل وَن کے مطابق نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنائے جا سکتے ہیں‘ یہی بنیادی مسائل کا حل ہے‘ سیاسی جماعتیں اتفاقِ رائے سے فیصلے کریں۔ دیکھا جائے تو پاکستان 1947ء سے آج تک صرف چار صوبوں پر مشتمل ہے جبکہ آبادی‘ جو قیامِ پاکستان کے وقت تین کروڑ کے لگ بھگ تھی‘ آج 25کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔ 1951ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً دو کروڑ‘ سندھ کی 60 لاکھ‘ صوبہ سرحد بشمول فاٹا کی آبادی 58 لاکھ اور بلوچستان کی محض 11 لاکھ تھی۔

آج صوبوں کی آبادی چھ سے سات گنا تک بڑھ چکی لیکن انتظامی نظام تقریباً اب بھی وہی ہے۔ انتظامی صورتحال کو آبادی کی شرح نمو کے مطابق تبدیل نہیں کیا گیا‘ نتیجتاً وسائل اور مسائل میں شدید عدم توازن پیدا ہو چکا ہے۔ ہمارے صوبوں کاحجم اور آبادی دنیا کے اکثر ممالک کے مجموعی حجم اور آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں صوبے نہ اپنے وسائل کو صحیح طرح ترقی دے پاتے ہیں نہ ہی مسائل کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے‘ اگر اس سے اوپر کے چار ممالک میں انتظامی یونٹس کی تعداد کا جائزہ لیں تو چین میں 34 انتظامی یونٹس‘ بھارت میں 28 ریاستیں اور آٹھ وفاقی علاقے‘ امریکہ میں 50 ریاستیں اور انڈونیشیا میں 38 صوبے ہیں۔ یہ تو آبادی میں پاکستان سے بڑے ممالک کا حال ہے‘ اگر ہم علاقائی ممالک کی بات کریں تو ایران میں 31 صوبے ہیں۔ بنگلہ دیش‘ جو مشرقی پاکستان کی صورت میں ایک انتظامی یونٹ تھا‘ آج اس کا انتظامی سسٹم آٹھ یونٹس پر مبنی ہے۔ سری لنکا جیسے چھوٹے سے ملک میں بھی نو صوبے ہیں۔ اس موازنے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ہم بڑی آبادی والے صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم نہ کر کے دنیا کیلئے ایسی منفی مثال پیش کر رہے ہیں جو محض مسائل پیدا کرتی ہے۔ سیاستدان‘ انتظامی ماہرین‘ سرمایہ کار‘ ماہرینِ معیشت‘ صنعتکار غرض قومی زندگی کا ہر قابلِ ذکر حلقہ اصولی طور پر چھوٹے انتظامی یونٹس کے مطالبے کے حق میں ہے۔ اب تو معاشی اور انتظامی حالات بھی اس نہج پر پہنچ چکے کہ جہاں اس کے سوا اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

وزیر داخلہ کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ جب تک اس مسئلے کی بنیاد کو ٹھیک نہیں کریں گے‘ یہ ملک ایسا ہی رہے گا۔ لہٰذا ضرورت مسئلے کی بنیاد کو ٹھیک کرنے کی ہے۔ اکنامک سمٹ میں اس مطالبے کی گونج اس حقیقت کا مظہر ہے کہ کاروباری حلقے جو معیشت کے نباض ہوتے ہیں‘ وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے چھوٹے انتظامی یونٹ ہی زیادہ موزوں اور سازگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر صوبے چھوٹے ہوں تو کاروباری طبقے کو حکومت تک رسائی اور مسائل کے حل میں آسانی ہو گی جس کا براہ راست فائدہ معیشت کو ہو گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں