قرضوں کا بوجھ
گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو 21ارب 50کروڑ ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں‘ ان میں تقریباً 3ارب 50کروڑ ڈالر صرف سود کی ادائیگی کی مد میں ہیں۔ یہ رقم آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت سالانہ ملنے والی مالی معاونت سے بھی زیادہ ہے۔ ہماری معیشت ابھی تک حقیقی معنوں میں پیداواری معیشت نہیں بن سکی‘ نتیجتاً حکومت کو ہر سال نئے قرضے لینا پڑتے ہیں جن کا بڑا حصہ پرانے قرضوں اور ان پر واجب الادا سود کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے۔ اس دلدل سے نکلے بغیر پائیدار معاشی استحکام حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت قرضوں کے حصول کو معاشی حکمت عملی کا مستقل حصہ بنانے کے بجائے قومی آمدنی اور مالیاتی وسائل میں اضافے پر توجہ دے۔

اس مقصد کیلئے برآمدات میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے کیونکہ مضبوط برآمدی شعبہ ہی زرِمبادلہ کے ذخائر میں مستقل اضافہ اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم یہ ہدف صرف اسی صورت حاصل ہو سکتا ہے جب صنعت کو سستی اور بلا تعطل توانائی‘ مناسب مالی سہولتیں اور کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جائے جبکہ زرعی شعبے کو سستے زرعی مداخل اور جدید ٹیکنالوجی میسر ہو تاکہ پیداوار اور برآمدی استعداد میں پائیدار اضافہ ہو۔ اس کیساتھ ساتھ آئی ٹی اور فری لانسنگ‘ معدنی وسائل‘ سیاحت اور بیرونی سرمایہ کاری جیسے شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ان اقدامات کے بغیر معاشی خودمختاری کا حصول ممکن نہیں۔