سکول بند؟
محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے مزید 555 سرکاری سکول بند کرکے انہیں قریبی سکولوں میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمے کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ ان سکولوں میں طلبہ کی کم تعداد کی وجہ سے کیا گیا ہے۔سرکاری سکولوں کی بندش کا فیصلہ اس ملک میں کیا جارہاہے جہاں‘ یونیسیف کے مطابق تقریباً دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ان میں سے ایک کروڑ سے زائد پنجاب سے ہیں۔اگر ان سکولوں میں داخلوں کی تعداد کم تھی تو حکومت کو ان وجوہ کی تلاش کرنی چاہیے جو سرکاری سکولوں کی جانب رجحان میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ سکولوں میں مزید سہولتیں فراہم کرنے اورانکی افادیت بڑھانے کے بجائے سکول بند کردینا تو ہر لحاظ سے غیر منطقی اقدام ہے۔

تعلیم اور صحت شہریوں کے آئینی حقوق ہیں اور انکی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے مگر ان حقوق کی فراہمی کے بجائے لیت و لعل کے حربے اپنائے جاتے ہیں۔اس صورتحال نے ملک میں طبقاتی تفریق میں اضافہ کیا ہے۔ مالی طور پر مستحکم شہری نجی اداروں سے تعلیم اور صحت کی سہولیات حاصل کر لیتے ہیں مگر غریب شہریوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یہ صورتحال ملک میں تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کم داخلوں کی بنا پر سکول بند کر نے کے بجائے سکولوں میں سہولیات بڑھانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔