اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کوئٹہ کان حادثہ

کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی دو کانوں میں پیش آنے والے المناک حادثے میں 34کان کنوں کی موت نے  کان مزدوروں کی زندگیوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق یہ حادثہ کان میں میتھین گیس بھر نے کی وجہ پیش آیا۔بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حادثات معمول بن چکے ہیں۔ گزشتہ برس ان حادثات میں 90 کان کن جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے باوجود حالات میں کوئی بنیادی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 60 ہزار افراد کوئلے کی کان کنی کے شعبے سے وابستہ ہیں مگر متعدد کانوں میں حفاظتی سازوسامان اور نگرانی کے مؤثر نظام کے بجائے روایتی طریقوں پر انحصار کیا جا تا ہے۔ ہزاروں فٹ گہری کوئلہ کانوں میں کان کن جدید آلات‘ مشینری‘ سانس لینے کیلئے ماسک‘ آکسیجن سلنڈر اور گیس کی مقدار ناپنے والے آلات کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اس صورتحال کی ذمہ داری صرف کان کے مالکان اور ٹھیکیداروں پر نہیں متعلقہ حکومتی اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام کوئلہ کانوں میں بین الاقوامی معیار کے حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنائیں‘ جدید ٹیکنالوجی اور گیس مانیٹرنگ نظام کی تنصیب لازمی قرار دی جائے‘ اور حفاظتی تقاضے پورے نہ کرنے والی کانوںکو بند کیا جائے۔ بصورت دیگر المناک حادثات ہوتے رہیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں