اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گڈ گورننس اور قومی استحکام

ملکِ عزیز کو داخلی و خارجی نوعیت کے جن پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے‘ ان کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس گہرے فکری تجزیے کی دعوت دیتی ہے۔ پریس کانفرنس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ ملکی سلامتی کا دار ومدار صرف عسکری طاقت یا میدانِ جنگ میں دشمن کے خلاف حاصل کی جانے والی کامیابیوں پرنہیں ہوتا‘ اس کے لیے گڈ گورننس بھی ضروری ہوتی ہے۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے اس حقیقت کا اظہار بھی کیا گیا کہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے اور انتظامی امور میں بہتری لائے اور عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا کیے بغیر طویل مدتی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔انہوں نے انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 1972ء میں پاکستان کی آبادی سات ‘ آٹھ کروڑ تھی جو اَب بڑھ کر 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ اب بھی چار صوبوں پر مشتمل ہے‘ اس صورتحال میں نئے تقاضوں کے مطابق سوچنے کی ضرورت ہے۔ ملکِ عزیز میں انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تخلیق کا تقاضا ایسی حقیقت ہے جس کی جانب مسلسل توجہ دلائی جا رہی ہے‘ ملک میں حکمرانی کے چیلنجز پر بھی بات ہوتی رہتی ہے۔

فی الحقیقت گڈ گورننس اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل لازم و ملزوم حقیقتیں ہیں؛ چنانچہ ضروری ہو چکا ہے کہ پرانے اور فرسودہ انتظامی ڈھانچے پر اصرار جاری رکھنے اور پبلک سروس کی صورتحال کو مزید بحرانوں سے دوچار کرنے کے بجائے نئے تقاضوں کو تسلیم کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی سلامتی سے متعلق امور اور دہشت گردی کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی جس کے مطابق رواں سال اب تک دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار 348 آپریشن کیے جا چکے ہیں جن میں 2084 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 819 اہلکار اور 322 شہری شہید ہوئے جبکہ رواں سال 28خودکش حملے ہوئے‘ جن میں زیادہ تر افغان شہری ملوث تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کو صراحت کے ساتھ واضح کیا اوربتایا کہ معرکۂ حق میں ناکامی کے بعد دشمن نے بلوچستان پر توجہ مرکوز کر لی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہاکہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں‘ انہیں یا تو آئین اور قانون کے مطابق ہتھیار ڈالنا ہوں گے بصورتِ دیگر سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف جاری کارروائیاں اس ریاستی عزم کی غمازی کرتی ہیں کہ پاک سر زمین پر کسی بھی دہشت گرد گروہ کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘تاہم عسکری کامیابیوں کے ثمرات کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی استحکام‘ معاشی بہتری اور سماجی انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ جب تک عام آدمی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے پائیدار امن ممکن نہیں ہو سکتا۔

اس وقت ملک میں جاری منفی پروپیگنڈا‘ جھوٹی خبروں اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے ذریعے معاشرے میں جو زہر گھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی بیداری کی ضرورت ہے اور دشمن کی ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک کو درپیش مسائل کا حل الزام تراشی یا سیاسی رسہ کشی میں نہیں جامع قومی اتفاقِ رائے‘ آئین کی بالادستی‘ بہتر حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی میں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں اٹھائے گئے نکات کو ایک روڈ میپ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکال کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور عام آدمی کے مسائل کے حل کی بنیاد رکھی جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں