سرمایہ کاری گراوٹ
وزارتِ خزانہ کی ماہانہ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 34 فیصد کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں بیرونی سرمایہ کاری دو ارب 47 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر ایک ارب 63 کروڑ ڈالر رہ گئی۔ یہ اعداد وشمار اور سرمایہ کاری میں منفی رجحان ملکی معیشت کیلئے تشویشناک ہے۔ سرمایہ کاری میں منفی رجحان کا سبب سیاسی عدم استحکام‘ پالیسیوں میں عدم تسلسل‘ مہنگائی‘ بلند شرح سود اور کاروبار میں دشواری جیسے وہ سٹرکچرل مسائل ہیں جو طویل عرصے سے ملکی معیشت کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں اور جن پرفوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ہمیشہ ایسے ماحول کے متلاشی ہوتے ہیں جہاں طویل مدتی استحکام‘ شفافیت اور سازگار ماحول میسر ہو۔

جب پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں اور سیاسی بے یقینی کا عنصر غالب رہے تو سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کیلئے دیگر معیشتوں کا رخ کر لیتے ہیں۔ توانائی کے بحران اور پیداواری لاگت میں اضافے جیسے عوامل نے بھی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ نیز وفاقی اور صوبائی سطح پر ایسا مربوط نظام وضع کرنا ہوگا جو سرمایہ کاری کے عمل کو تیز اور آسان بنائے۔ معیشت کو پٹری پر لانے کیلئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔