آزاد کشمیر الیکشن، اصلاحات اور رواداری
آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران مظفر آباد ڈویژن کی نو اور مہاجرین کی 12 نشستوں کیلئے پولنگ ہوئی تاہم اس دوران بھی سیاسی کشمکش اور الزام تراشی کے وہی مناظر دیکھنے کو ملے جو اس سے قبل پہلے مرحلے میں دیکھنے کو ملے تھے۔ 27 جولائی کو پہلے انتخابی مرحلے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ متعلقہ ادارے اور سیاسی قیادت اپنی خامیوں سے سبق سیکھیں گے‘ سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کریں گے اور ووٹ کے تقدس کو یقینی بنانے کیلئے شفافیت کے نئے معیارات قائم کریں گے۔ مگر افسوس کہ یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں اور وہی پرانے مناظر ایک بار پھر دہرائے گئے جن سے انتخابی عمل کی شفافیت مجروح ہوتی اور عوام کا جمہوریت پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔

اگر پہلے مرحلے میں سامنے آنے والی خامیوں کا بروقت تدارک کر لیا جاتا تو دیگرمراحل کو نسبتاً زیادہ شفاف اور پُرامن بنایا جا سکتا تھا۔ کسی بھی صحتمند جمہوری معاشرے میں انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی کا نہیں بلکہ عوام کے حقِ رائے دہی کے اظہار کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔ جب انتخابی عمل میں انتظامی کمزوریاں سامنے آتی ہیں تو اس سے پورے نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ یہاں سیاسی جماعتوں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کی خاطر انتخابی عمل کو متنازع بنانے سے گریز کریں اور تحمل و رواداری کا مظاہرہ کریں۔ انتخابات کے تیسرے مرحلے کو اب ہر لحاظ سے پُرامن اور شفاف بنانا چاہیے تاکہ انتظامی خامیوں کا مؤثر ازالہ کیا جا سکے۔