قومی سلامتی کا تقاضا
گزشتہ ماہ دہشت گردی کے حوالے سے رواں سال کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا۔ ملک میں سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم کی رپورٹ کے مطابق اُس مہینے کم از کم آٹھ خو د کش حملے ہوئے جن میں سے پانچ میں بارود بھری گاڑیوں کو استعمال کیا گیا تھا۔ جولائی میں دہشت گردی کے واقعات میں سکیورٹی فورسز کے کم از کم 112 اہلکار اور 93 عام شہری شہید ہوئے۔ جون میں یہ تعداد بالترتیب 26‘ 52 اور مئی میں 68‘ 71 تھی۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی رواں سال کے کسی دوسرے مہینے سے دگنا تھی۔ جولائی میں 401 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ جون اور مئی میں بالترتیب 184 اور 270۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشتگردی کے نشانے پر ہیں۔ ہفتے کے روز شمالی وزیرستان میں دہشتگردی کے ایک واقعے میں پاک فوج کے ایک میجر بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے جبکہ اتوارکے روز سوات کے علاقے میں دہشتگردی کے واقعے کم ازکم پانچ پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشتگردی کا مسلسل ہدف ہیں۔ بظاہر اس کی پہلی اور بنیادی وجہ ان صوبوں کی جغرافیائی صورتحال ہے۔

ہر دو صوبوں کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں اور افغانستان اس وقت عملاً فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا ٹھکانہ ہے۔ افغانستان سے یہ توقع کی گئی تھی کہ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد وہاں کا اقتدار سنبھالنے والے نئی شروعات کریں گے اور خطے کے ممالک کے ساتھ بھائی چارے کے اصولوں کو ترجیح دیں گے مگر حقیقتاً اس کے برعکس ہوا اور اگست 2021ء سے کابل پر مسلط طالبان نے وہیں سے کام شروع کیا جہاں وہ دو دہائی پہلے چھوڑ کر گئے تھے۔ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کی خواہش تھی کہ افغانستان کو ہر ممکن مدد فراہم کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا جائے مگر طالبان کی عبوری حکومت نے ہمسایوں کے خلوص کا یہ صلہ دیا کہ آتے ہی دہشتگردوں کو جیلوں سے چھوڑنا شروع کر دیا‘ نتیجتاً پاکستان میں دہشتگردی میں 2021ء کے وسط سے اضافے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج پانچ سال بعد بھی اسی طرح جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ان ابھرتے ہوئے خطرات کا بھرپور صلاحیتوں سے مقابلہ کیا اور انسدادِ دہشتگردی کی مسلسل کارروائیوں کا نتیجہ یہ ہے اس خطرے کو ماضی کی طرح ملک بھر میں پھیلنے سے روکا گیا ہے۔
دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر چھاپہ مار کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز کا زیادہ تر جانی نقصان انہی کارروائیوں میں ہوا ہے۔ ان جرأتمندانہ اقدامات کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک کے دیگر حصے دہشتگردوں کے حملوں سے محفوظ ہیں۔ البتہ ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی امن بحال اور ان علاقوں میں معاشی ترقی کے امکانات کو فروغ دیا جائے‘ مگر یہ اسی صورت ممکن دکھائی دیتا ہے جب خطرے کو اُس کے نقطہ آغاز پر روکا جائے اور وہ افغانستان ہے جہاں کی عبوری انتظامیہ اس ذمہ داری کے احساس سے بے بہرہ ہے۔ ماضی میں پاکستان نے بیشمار ایسی کوششیں کیں کہ طالبان اس ذمہ داری کو باور کریں مگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا‘ الٹا طالبان کی عبوری حکومت دہشتگردوں کے ساتھ کھڑی ہو گئی جس پر افواج پاکستان کو افغانستان میں خطرے کے مقامات کو نشانہ بنانا پڑا۔
مستقبل میں پائیدار امن کے حوالے سے کیا کیا جانا ضروری ہے اس پر غور کیا جائے تو حل کی کئی صورتیں سامنے آتی ہیں جن پر بیک وقت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ سرحد پار ایسے مقامات جن کے بارے یقینی شواہد موجود ہیں کہ پاکستان میں سلامتی کے خطرات کا سبب بن رہے ہیں‘ وہ پاکستان کا جائز ہدف ہیں۔ دوسری بات یہ کہ دہشت گردی سے متاثرہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں معاشی منصوبوں‘ عوامی ترقی اور فلاح و بہبود کے اقدامات کو تیز کیا جائے۔ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے ہمہ جہت اقدامات وقت کا تقاضا ہیں۔