میٹرو بسوں کی بندش؟
لاہور کی میٹرو بس سروس‘ جو گزشتہ تقریباً ڈیڑھ دہائی سے لاکھوں افراد کی روزمرہ نقل وحرکت کا اہم ذریعہ ہے‘ اس وقت سنگین مالی و انتظامی بحران کا شکار ہے۔ آپریشنز چلانے والی نجی کمپنی نے ایندھن اور مالی وسائل کی عدم دستیابی کے باعث بس سروس کو 11 اگست سے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف صوبائی دارالحکومت کے ریپڈ ٹرانسپورٹ نظام کیلئے بڑا چیلنج ہے بلکہ اس سے ہزاروں شہریوں کے روز مرہ معمولات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومتوں اور نجی آپریٹرز کے مالی معاملات سے جڑے تنازعات کا خمیازہ ہمیشہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے اور اس سے ہزاروں شہریوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کسی بھی شہر کی معاشی اور سماجی لائف لائن ہوتی ہے۔

لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں‘ جہاں سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ اور ماحولیاتی آلودگی پہلے ہی تشویشناک حد تک زیادہ ہے‘ میٹرو بس جیسی سستی اور منظم سروس نے نچلے اور متوسط طبقے کو خاصی سہولت فراہم کی ہے۔ صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ معاملے کی حساسیت کو سمجھیں اور مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ سروس میں کوئی تعطل نہ آئے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ آئندہ ایسی صورتحال سے بچنے اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا پائیدار اور مستقل حل تلاش کیا جائے۔