ڈینگی کا منڈلاتا خطرہ
مون سون بارشوں اور پانی کھڑا ہونے سے مچھروں کی افزائش کیلئے موافق ماحول پیدا ہوا ہے جس سے ڈینگی کے کیسوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں مون سون سیزن کے آغاز سے اب تک سینکڑوں مقامات ڈینگی لاروا برآمد ہونے پر سیل کیے جا چکے ہیں۔ لاہور شہر میں بھی 30 ہزار سے زائد ڈینگی ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا میں بھی ڈینگی بخار کے کیسز سامنے آئے ہیں‘ جو اس بات کا مظہر ہیں کہ حالیہ برسات کے بعد ملک کے بیشتر علاقوں میں ڈینگی کے پھیلائو کے سنگین خدشات موجود ہیں اور شہروں‘ قصبوں اور دیہات میں جگہ جگہ کھڑا پانی ڈینگی لاروا اور مچھروں کی افزائش گاہ بنا ہوا ہے۔ اس حوالے سے ذرا سی بے احتیاطی ڈینگی کے پھیلائو کا سبب بن سکتی ہے۔

ہر سال مون سون کے بعد ہزاروں افراد ڈینگی اور ملیریا میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ نکاسی آب کے ناقص انتظامات‘ مچھروں کی افزائش کیلئے سازگار ماحول اور بے احتیاطی ہے۔ ضروری ہے کہ متعلقہ حکام تمام حساس علاقوں میں ڈینگی کنٹرول مہم کا فوری آغاز کریں اور مچھروں کی افزائش والی جگہوں پر سپرے کرایا جائے۔ پانی کی نکاسی کا بھی مؤثر انتظام یقینی بنانا چاہیے ۔ ساتھ ہی ساتھ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ گھروں کی چھتوں‘ گملوں یا لان میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں تاکہ مچھروں کو افزائش کیلئے ساز گار ماحول میسر نہ آ سکے۔ احتیاطی تدابیر اپنا کر ہی اس جان لیوا بیماری کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔