اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی اور عوام کی بڑھتی مشکلات

ملک میں مہنگائی کا جن ایک بار پھر بے قابو ہونے کے آثار دکھا رہا ہے۔ رواں مالی سال کے دوسرے ماہ (اگست) کے پہلے ہفتے میں مہنگائی کی رفتار میں 0.28 فیصد اضافہ یہ واضح کرتا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے سرکاری دعوے ادھورے ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.29 فیصد تک پہنچ جانا بلاشبہ تشویشناک ہے‘ خصوصاً ایسے وقت میں جب عام آدمی پہلے ہی بجلی‘ گیس‘ پٹرول اور اشیائے خورو نوش کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہا ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق پچھلے ایک ہفتے کے دوران 20 ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ چکن کی قیمت میں 9.19 فیصد اور پیاز کی قیمت میں 10.14 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا جبکہ دال چنا‘ سرخ مرچ‘ چائے کی پتی‘ آٹا اور گھی بھی مہنگا ہوا۔ یہ اعداد وشمار صرف چند اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی نشاندہی نہیں کرتے اس بنیادی مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ ملک میں خوراک اور ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں کو مستقل بنیادوں پر قابو میں رکھنے کا نظام مؤثر نہیں۔ مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ محدود آمدنی والا گھرانہ جب آٹا‘ دال‘ گھی‘ سبزی خریدتا ہے تو اس کے ماہانہ بجٹ کا بڑا حصہ صرف خوراک پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بجلی کا بل‘ بچوں کی سکول فیس‘ علاج اور دیگر ضروریات پوری کرنا دشوار چیلنج بن جاتا ہے۔

قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ایسے خاندانوں کے بجٹ کو شدید متاثر کرتا ہے۔ چکن اور پیاز کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران 9.19 اور 10.14 فیصد اضافہ خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ خوراک کی قیمتیں عموماً طلب اور رسد‘ موسمی صورتحال‘ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مارکیٹ میں نگرانی کے فقدان سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں یہ خدشہ موجود ہے کہ ان دنوں ٹرکوں کی ہڑتال سے اشیائے خورو نوش مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف سرکاری نرخ مقرر کر دینا مہنگائی کا حل نہیں‘ اصل ضرورت مارکیٹ کے مؤثر انتظام‘ سپلائی چین کی نگرانی‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف عملی کارروائی کی ہے۔ متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو محض کاغذی کارروائی اور جرمانوں تک محدود رہنے کے بجائے مارکیٹ کی مسلسل نگرانی کا نظام قائم کرنا چاہیے۔ شاید پنجاب میں اس حوالے سے کچھ کام ہوا بھی مگر اسے نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پیداواری لاگت میں اضافہ کہاں ہو رہا ہے اور اس کا کتنا حصہ حقیقی ہے اور کتنا اضافہ مصنوعی طور پر صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

مہنگائی پر قابو پانے کیلئے قلیل مدتی اقدامات کیساتھ ساتھ طویل مدتی حکمت عملی بھی وضع کرنا ہو گی۔ زرعی پیداوار میں اضافہ‘ کسانوں کو مناسب قیمت‘ ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولتیں‘ کولڈ سٹوریج ‘ مؤثر ٹرانسپورٹ نظام اور منڈیوں میں شفافیت اس حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ مہنگائی محض معاشی مسئلہ نہیں سماجی مسئلہ بھی ہے۔ جب آمدنی میں اضافے کی رفتار قیمتوں میں اضافے سے کم ہو جائے تو لوگوں کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں معیارِ زندگی متاثر ہوتا ہے اور لوگ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہی صورتحال طویل مدت میں معاشی اور سماجی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مہنگائی کے اعداد وشمار جاری کرنے پر اکتفا نہ کیا کرے بلکہ ہر اضافے کی وجوہات تلاش کرے اور ذمہ دار عناصر سے نمٹنے کی حکمت عملی لے کر آئے۔

مہنگائی کی شرح میں حالیہ اضافہ شاید معمولی دکھائی دے مگر عام آدمی کیلئے ہر اضافی روپیہ اہم ہوتا ہے۔ حکومت کی معاشی کامیابی کا اصل پیمانہ محض مجموعی معاشی اشاریے نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ عام خاندان کتنی آسانی سے اپنی بنیادی ضروریات پوری کر پاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مہنگائی کو محض ایک شماریاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے عوام کی زندگی سے جڑا ہوا بنیادی مسئلہ تصور کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں