ذہنی صحت کے مسائل
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان کی تقریباً 34 فیصد آبادی ڈپریشن‘ انزائٹی اور ذہنی دباؤ جیسے امراض کا شکار ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر آٹھواں شخص جبکہ پاکستان میں تقریباً ہر تیسرا شخص ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہے۔ اس صورتحال کو عوامی صحت کے ایک المیے کے طور پر لینا چاہیے کہ جہاں دیگر عوارض انتہائی صورت اختیار کر چکے ہیں وہیں ذہنی امراض کی شرح بھی خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اس صورتحال کے اسباب ڈھکے چھپے نہیں۔ معاشی اور سماجی مسائل ذہنی اور نفسیاتی مسائل کی بہت بڑی وجہ ہیں۔

مگر زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ عوام کو ذہنی صحت کی بحالی کے مواقع خواہ وہ طبی اور نفسیاتی علاج کی صورت میں ہوں یا سماجی ‘ بہت کم میسر ہیں۔ بڑے شہروں میں تو پھر بھی کچھ ہسپتال یا طبی مراکز موجود ہیں مگر دور دراز کے علاقوں کی صورتحال کہیں زیادہ باعث تشویش ہے ۔اس کا نتیجہ بعض اوقات انتہائی المناک واقعات کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ خود کشی کے بڑھتے واقعات یا سنگین جرائم کی دیگر صورتوں کو ذہنی عوارض کی خوفناک صورتحال کا نتیجہ سمجھنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لے اور ذہنی صحت کو قومی صحت پالیسی کا ترجیحی حصہ بنایا جائے‘ اور ضلعی اور تحصیل سطح کے ہسپتالوں میں ذہنی صحت کی بنیادی خدمات لازماً فراہم کی جائیں۔