مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور مہنگائی کا مسئلہ
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے جیو پولیٹکل چیلنجز عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں جس سے مجموعی معاشی منظرنامہ متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ رپورٹ ملکی معیشت پر بیرونی اثرات کو واضح کرتی ہے۔ مانیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق معیشت کی نمو کے امکانات کے باوجود افراطِ زر اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس وقت معاشی استحکام کی نازک ڈور کا ایک سرا ملکی اصلاحات سے جڑا ہے اور دوسرا مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں کے اثرات کے ساتھ۔ فروری 2022ء میں یوکرین جنگ اور توانائی کی منڈیوں میں اچھال کے سبب افراطِ زر کی شرح دہرے ہندسے میں داخل ہو گئی تھی اور مئی 2023ء میں یہ 37.97 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی تاہم سخت فیصلوں اور پالیسی ریٹ میں اضافے سے یہ بتدریج کم ہونا شروع ہوئی اور جنوری 2025ء میں اکہرے ہندسے میں واپس آ گئی مگر یہ کمی عارضی ثابت ہوئی اور کچھ اونچ نیچ کے ساتھ رواں سال فروری میں ایران پر امریکی حملے کے بعدافراطِ زر میں دوبارہ اضافہ شروع ہو گیا ۔ توانائی کی بلند تر قیمتیں اورخام مال کی مہنگی درآمدات ملکی معیشت کے لیے سب سے بڑی مشکلات پیدا کررہی ہیں۔

عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین کی بندش اور بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی گزرگاہوں پر بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹوں کے باعث مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل اور گیس سے پورا کرتا ہے اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا سیاسی تصادم پاکستان کیلئے براہِ راست مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور عالمی اجناس کی قیمتوں کا بڑھتا ہوا رجحان براہِ راست پاکستان کے تجارتی توازن پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ یہ صورتحال زرِمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلاتِ زر پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ سٹیٹ بینک کی مذکورہ رپورٹ میں زرعی شعبے پر موسمیاتی تبدیلیوں اور ایل نینو کے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو فوڈ سکیورٹی اور مجموعی افراطِ زر کیلئے پوشیدہ خطرہ ہیں۔ زرعی پیداوار میں کمی سے نہ صرف زرِمبادلہ پر بوجھ پڑ سکتا ہے بلکہ اشیا کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب اندرونِ ملک گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال بھی معاشی خدشات میں اضافہ کر رہی۔ ڈر ہے کہ زرعی اجناس کی ترسیل میں اگر تاخیر ہوئی تو اربوں روپوں کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ صنعتی مالکان کی جانب سے بھی مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کارگو کی نقل و حرکت میں خلل صنعت اور برآمدات کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنتی ہے۔ ماضی میں بھی ایسی رکاوٹوں اور برآمدی کھیپ کی بروقت ترسیل نہ ہونے کے سبب مالی نقصانات‘ پیداوار میں تعطل اور برآمدات میں گراوٹ جیسے نقصانات بھگت چکے ہیں۔ ان حالات میں جب بیرونی محاذ کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر بھی سپلائی چین کے بحران کا سامنا ہو اور موسمیاتی تبدیلیاں زرعی شعبے کو خطرے میں ڈال رہی ہوں اور تو محض چند پالیسی اقدامات کے ذریعے مہنگائی پرقابو پانا ممکن نہیں رہتا بلکہ اس کیلئے جامع انتظامی اور سٹرکچرل اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سپلائی چین کی نگرانی سخت کرے اور ناجائز منافع خوری کا تدارک یقینی بنائے۔
پائیدار ترقی کیلئے درآمدات پر اپنا انحصار کم کرنا‘ متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور اپنی برآمدی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ عالمی منڈی کے جھٹکوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اربابِ اختیار کو چاہیے کہ صنعتی روانی اور مالی سکت میں اضافے کیلئے ایسی پالیسیاں بنائیں جو مقامی پیداوار کو مہمیز دیں۔ مالی سکت میں اضافہ ہی وہ حل ہے جو مہنگائی کا مقابلہ کرنے میں آسانی فراہم کر سکتا ہے۔