ہڑتال اور اثرات
حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال چھٹے روز میں داخل ہو چکی ہے‘ جس کے معیشت پرمنفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے کہ ہڑتال کے باعث صنعتی خام مال کی ترسیل تقریباً رک چکی ہے‘ جس سے صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات میں یکساں ایکسل لوڈ پالیسی کا نفاذ‘ 10پہیوں والی گاڑیوں کیلئے وزن کی حد بڑھا کر 35 ٹن کرنا‘ ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ کے بجائے ماہانہ بنیاد پر تعین اور کسٹمز سے متعلق اختیارات شامل ہیں۔

خبروں کے مطابق حکومت یکساں ایکسل لوڈ پالیسی اور کسٹمز حکام و ٹرانسپورٹرز پر مشتمل مشترکہ مانیٹرنگ میکانزم سمیت بعض اقدامات پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے‘ تاہم ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کا معاملہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے جڑا ہوا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ ملکی معیشت کیلئے سپلائی چین کی بنیادی کڑی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جو مطالبات جائز‘ قانونی اور قابلِ عمل ہیں‘ انہیں واضح ٹائم فریم اور تحریری فیصلوں کے ذریعے حل کیا جائے۔ دوسری طرف ٹرانسپورٹرز کو بھی یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ احتجاج کا حق اپنی جگہ مسلم مگر غیر معینہ ہڑتال کے ذریعے قومی سپلائی چین کو طویل عرصے تک مفلوج رکھنا کسی فریق کے مفاد میں نہیں۔