بہتر مستقبل کی امید
ایک سروے رپورٹ کے مطابق ملک عزیز کی 52 فیصد آبادی ملک کی طویل مدتی سمت کے حوالے سے پُرامید ہیں۔ معاشی مشکلات‘ سیاسی بے یقینی اور ادارہ جاتی مسائل کے باوجود اگر نصف سے زیادہ شہری ملک کے مستقبل کو بہتر دیکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی معاشرے میں بہتری کی خواہش اور امکان دونوں موجود ہیں۔ سوال اب یہ ہے کہ اس امید کو عملی نتائج میں کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں شفافیت‘ احتساب‘ قانون کی حکمرانی‘ اداروں کی ساکھ‘ عوامی اعتماد اور حکومتی کارکردگی سمیت گورننس کے متعدد پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں احتساب کا قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے ‘مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس نظام پر عملدرآمد بھی کیا جا رہا ہے؟

شفافیت کسی بھی ملک کیلئے اچھی حکمرانی‘ سرمایہ کاری‘ مؤثر عوامی خدمات اور ریاستی اعتماد کی بنیادی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی کرپشن پرسیپشن کی صورتحال بھی اس ضرورت کو اجاگر کرتی ہے؛ 2025ء کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر ہے۔ مذکورہ رپورٹ مسائل کے باوجود مستقبل کے حوالے سے ایک خوش کن تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ نوجوان نسل ملک کے ساتھ جڑی ہوئی ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس امید کو شفاف فیصلوں‘ مؤثر احتساب‘ قانون کی یکساں حکمرانی اور جواب دہ ادارہ جاتی نظام کے ذریعے اور مضبوط کیا جائے۔