افسوسناک ٹریفک حادثات
گزشتہ روز لاہور میں ایک کار ڈرائیور کی تیز رفتاری کے باعث کار میں سوار تین نوجوانوں سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث روڈ حادثات معمول بن چکے اور سڑکیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14 اگست کو پنجاب بھر میں تقریباً 1900 ٹریفک حادثات میں 16 افراد جاں بحق اور 2100 سے زائد زخمی ہوئے‘ جن میں اکثریت موٹر سائیکل سواروں کی تھی۔ یومِ آزادی جیسے قومی تہوار کو بعض موٹر سائیکل سواروں نے خطرناک کرتب اور قانون شکنی کا موقع بنا لیا۔ ون ویلنگ‘ تیز رفتاری‘ بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانا اور ٹریفک اشاروں کی خلاف ورزی نہ صرف خود سواروں بلکہ سڑک پر چلنے والے دوسرے شہریوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔

بعض نوجوان چند لمحوں کی داد اور نمائش کے لیے اپنی اور دوسروں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ آزادی کے جشن سمیت کوئی بھی تہوار دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈال کر منانا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ ٹریفک پولیس کو ایسے عناصر کیخلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کرنا چاہیے۔ والدین بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ کم عمر یا ناتجربہ کار بچوں کے ہاتھ میں گاڑی کی چابی دینا انکی اور دوسروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ والدین کو کم عمر بچوں کو قانونی عمر‘ تربیت اور لائسنس کے تقاضے پورے کرنے کا پابند بنانا چاہیے۔