اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

جعلی زرعی ادویات

ایک خبر کے مطابق محکمہ پیسٹ وارننگ اور کوالٹی کنٹرول نے ملتان میں کارروائی کے دوران 43750کلوگرام جعلی و غیرقانونی زرعی ادویات قبضے میں لیں جبکہ سات ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا۔ اس وقت ملک میں جعلی اور غیر معیاری زرعی ادویات کا کاروبار تشویشناک حد تک پھیل چکا ہے۔ کسان پہلے ہی مہنگی کھاد‘ بیج‘ زرعی مشینری‘ پانی اور دیگر مداخل کی بڑھتی ہوئی لاگت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ وہ اپنی محدود آمدنی میں سے ہزاروں روپے خرچ کرکے فصلوں کو بیماریوں اور کیڑوں سے بچانے کے لیے ادویات خریدتا ہے مگر جب یہی ادویات جعلی نکلیں تو یہ فصل بچانے کے بجائے مزید نقصان کا سبب بن جاتی ہیں۔نتیجتاً فصل کو نقصان پہنچنے کے ساتھ کسان کی مہینوں کی محنت‘ سرمایہ اور امیدیں بھی خاک میں مل جاتی ہیں۔

اگر حکومتی کارروائیوں کے باوجود جعلی زرعی ادویات کا دھندہ پھیلتا جا رہا ہے ‘ اس کا مطلب صاف ہے کہ کہیں نہ کہیں نگرانی کے موجودہ نظام میں کمزوری موجود ہے۔ سخت سزائیں نہ ہونے کے باعث اس کاروبار میں ملوث عناصر چند ہفتوں یا مہینوں میں چھوٹ کر دوبارہ کسانوں کا استحصال شروع کر دیتے ہیں۔ زراعت اور غذائی تحفظ کو جعلی ادویات بنانے والوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ کھادوں اور زرعی ادویات کی باقاعدہ جانچ یقینی بنائی جائے اور جعلی ادویات فروخت کرنے والوں اور تیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں