اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

واٹر مینجمنٹ پالیسی ناگزیر

محکمہ موسمیات کے مطابق رواں برس کراچی میں مون سون کے دوران تقریباً 29سال کی کم ترین بارشیں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ ایسے وقت میں جب ملک کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو رہی ہے‘ بظاہر یہ دو متضاد صورتیں درحقیقت ملک کے بدلتے ہوئے موسمیاتی نظام کو واضح کرتی ہیں۔ کہیں پانی کی شدید قلت ہے اور کہیں چند گھنٹوں میں اتنا پانی برس رہا ہے کہ انسانی آبادیوں‘ فصلوں اور انفراسٹرکچر کیلئے خطرہ بن جاتا ہے۔ کراچی میں بارشوں کی کمی کے فوری موسمیاتی اسباب اپنی جگہ‘ مگر یہ مسئلہ محض ایک شہر یا ایک مون سون سیزن تک محدود نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں کے روایتی پیٹرن کو متاثر کیا ہے۔ ایک طرف شدید بارشوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ دوسری جانب خشک سالی کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق مستقبل میں زیادہ متغیر مون سون‘ شدید بارشوں اور خشک سالی کے امکانات ہیں۔ ہم برساتی پانی کو نعمت کے بجائے اکثر آفت سمجھ کر صرف نکاسی کی فکر کرتے ہیں‘ لیکن اب وقتی اقدامات کے بجائے مستقل قومی واٹر مینجمنٹ پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔ بڑے آبی ذخائر کیساتھ چھوٹے ڈیم‘ بارانی علاقوں میں آبی ذخائر‘ شہری سطح پر رین واٹر ہارویسٹنگ اور زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ کے منصوبے ناگزیر ہیں تاکہ خشک سالی سے بچا جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں