اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ہسپتال آتشزدگی

وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں آتشزدگی کا ہولناک واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت‘ انتظامی بے حسی اور فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کا وہ منہ بولتا ثبوت ہے جس نے چودہ معصوم نومولود بچوں کی جانیں نگل لیں۔ وہ پھول جیسے بچے جو ابھی دنیا میں پہلی پہلی سانسیں لے رہے تھے‘ ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ لاپروائی کے باعث موت کی آغوش میں چلے گئے۔ یہ سانحہ ہر ذی شعور انسان کو لرزا دینے کیلئے کافی ہے اور اس نے پورے ملک کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس قدر سنگین اور دلخراش واقعے کے بعد بھی انتظامیہ کا مؤقف انتہائی غیر تسلی بخش اور روایتی ٹال مٹول پر مبنی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی انتظامی خامی اور ناقص انتظامات کی ذمہ داری قبول کرنے سے صاف انکار کا رویہ مستقبل میں ایسے مزید ہولناک حادثات کا راستہ کھولنے کے مترادف ہے۔ کسی حادثے کے بعد جب تک تکنیکی غلطیوں‘ انتظامی خامیوں اور انسانی کوتاہیوں کا تعین نہیں کیا جاتا‘ تب تک اصلاحِ احوال کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس لیے روایتی محکمہ جاتی انکوائری کمیٹیوں کے ذریعے وقت ٹالنے کے بجائے اس سانحے کی ایک جامع‘ شفاف اور آزادانہ انکوائری کرائی جانی چاہیے جس پر عوام اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل اعتماد ہو۔ دیکھا جائے تو یہ اندوہناک حادثہ بیک وقت ایک سنگین انتظامی بحران بھی ہے‘ فائر سیفٹی کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے اور اسکے گہرے سیاسی مضمرات بھی ہیں۔ سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو وفاقی وزارتِ صحت کے براہِ راست ماتحت اسلام آباد کے صرف دو بڑے ہسپتال آتے ہیں۔ اگر وفاقی وزارتِ صحت ان دو ہسپتالوں میں بھی انتظامات کو تسلی بخش اور مریضوں کیلئے محفوظ نہیں بنا سکتی تو یہ اس کی کارکردگی اور گورننس پر بہت بڑا اور پریشان کن سوالیہ نشان ہے۔ وفاق کے سرکاری ہسپتالوں کا یہ ابتر حال اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ صحت کا نظام کس قدر کھوکھلا اور ترجیحات سے محروم ہو چکا ہے۔ جب نرسری جیسے حساس ترین وارڈ میں‘ جہاں چند سیکنڈوں میں زندگی اور موت کا فیصلہ ہوتا ہے‘ آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ کو اطلاع دینے میں تاخیر کی جائے تو یہ انتظامی غفلت کے سوا اور کیا ہے۔ آگ لگنے کے بعد طبی عملے کا مبینہ طور پر بچوں کو بے یار ومددگار چھوڑ کر اپنی جانیں بچانے کیلئے بھاگ نکلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عملے کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی کوئی بنیادی تربیت ہی نہیں دی جاتی۔ یہ تلخ اور دردناک حادثہ ہمیں ہسپتالوں سمیت تمام عوامی جگہوں پر سیفٹی انتظامات کو فوری اور مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کی تحریک دیتا ہے۔ ابھی تو سانحہ گُل پلازہ کے زخم بھی مندمل نہیں ہوئے تھے کہ اب وفاق کے سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعے نے پبلک مقامات‘ شاپنگ مالز‘ تعلیمی اداروں اور خاص طور پر سرکاری عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سرکاری عمارات‘ عوامی جگہوں خصوصاً ہسپتالوں میں رائج فائر سیفٹی رولز کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ ہسپتالوں کے آئی سی یو‘ نرسری اور آپریشن تھیٹرز جیسے حساس وارڈز میں فائر الارم‘ خودکار آگ بجھانے والے سپرنکلر سسٹم اور ہنگامی اخراج کے راستوں کا باقاعدگی سے آڈٹ کرایا جائے۔ عمارتوں میں آگ بجھانے والے سلنڈرز کی محض موجودگی ہی کافی نہیں بلکہ عملے کو انہیں استعمال کرنا بھی آنا چاہیے۔ پاکستان میں یہ روایت رہی ہے کہ آتشزدگی کے بڑے بڑے سانحات کو شارٹ سرکٹ یا گیس لیکیج کا نام دے کر فائلوں کو بند کر دیا جاتا ہے اور کبھی ذمہ داران کا تعین نہیں کیا گیا۔ پمز ہسپتال سانحہ کو اس روایت کی کڑی نہیں بننا چاہیے۔ جب تک اس حادثے کے اصل ذمہ داران اور انتظامی غفلت کے مرتکب افراد کیخلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تب تک مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام ممکن نہ ہو گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں