اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی میں اضافہ

وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 27 اگست کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 9.04 فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران آٹا‘ ڈبل روٹی‘ سرخ مرچ‘ پیاز‘ ٹماٹر‘ ایل پی جی‘ ڈیزل‘ پٹرول اور بجلی جیسی اشیا اور سروسز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا‘ جو براہِ راست عام آدمی کے بجٹ کو متاثر کرتی ہیں۔  نئے مالی سال کے آغاز سے اب تک صرف ایک ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ہوئی جبکہ باقی تمام ہفتوں میں مہنگائی میں اضافے کا رجحان برقرار رہا ہے۔ اس کی وجہ ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری نہیں بلکہ پیداواری لاگت‘ بجلی و گیس کے نرخ‘ نقل و حمل کے اخراجات‘ ٹیکسوں کا بوجھ‘ کمزور سپلائی چین اور مارکیٹ میں مسابقت کی کمی ہے۔

اگرچہ مارکیٹ کی نگرانی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی اپنی جگہ ضروری ہے مگر اس کے ساتھ اشیائے خورونوش کی پیداوار‘ ذخیرہ اور ترسیل کا نظام بہتر بنانا‘ کسان اور صارف کے درمیان غیر ضروری درمیانی منافع کو کم کرنا اور ضروری اشیا کی سپلائی میں رکاوٹوں کا فوری ازالہ بھی ناگزیر ہے۔ مہنگائی کا مقابلہ محض بازار میں ڈنڈا چلانے سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے پیداوار بڑھانے‘ لاگت کم کرنے‘ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کی قوتِ خرید بحال کرنے جیسے اقدامات پر بھی توجہ ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں