اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجلی کا بحران

ملک میں بجلی کا شارٹ فال چار ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرنے کے باعث مختلف علاقوں میں طویل غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ دن کے وقت تقریباً سات ہزار میگا واٹ سولر پیداوار بجلی کے شارٹ فال کو کسی حد تک کم کر دیتی ہے مگر سورج ڈھلتے ہی بجلی کی قلت بڑھ جاتی ہے اور رات کے اوقات میں صارفین کو طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے۔ ملک میں بجلی کا یہ بحران آخرکب تک جاری رہے گا؟ ماضی قریب میں بجلی بحران کا پائیدار حل نکالنے کے بجائے سارا زور انسٹالڈ کپیسٹی بڑھانے پر رہا ہے۔ ملک میں بجلی کی نصب شدہ صلاحیت 49 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہے جبکہ طلب اسکا نصف بھی نہیں۔ ایسے میں چار ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال توانائی سیکٹر کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ عالمی انرجی بحران بتائی جا رہی ہے‘ جس کے سبب اکثر پلانٹس اپنی صلاحیت سے کم بجلی پیدا کر رہے ہیں‘ تاہم حکومت کو اس مسئلے کا پائیدار حل نکالنا چاہیے اور شارٹ فال کا سبب بننے والے عوامل کا بلاتاخیر تدارک یقینی بنانا چاہیے۔ مستقل حل کیلئے ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرتے ہوئے آبی‘ شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی پیداوار بڑھا کر اسے قومی گرڈ کیساتھ بہتر انداز میں مربوط کرنا چاہیے۔ سولرائزیشن کو مسئلہ سمجھنے کے بجائے توانائی پالیسی کا کارآمد حصہ بنانا چاہیے اور بیٹری سٹوریج‘ جدید گرڈ اور ڈیمانڈ مینجمنٹ کے ذریعے دن کی اضافی شمسی بجلی کو رات میں استعمال کرنے کی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں