اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سانحہ پمز کے ذمہ داران…؟

وفاقی دارالحکومت کے پمز ہسپتال میں بدھ کی صبح آتشزدگی کے دلخراش سانحے کے اسباب اور ذمہ داروں کا تیسرے روز بھی تعین نہیں ہو سکا۔ وزیراعظم کی جانب سے اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے 48گھنٹے میں رپورٹ جمع کروانی تھی مگر جمعہ کی شام تک کمیٹی کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ تاہم قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ہسپتال کے عملے اور انتظامیہ کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں اور سٹاف کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قائمہ کمیٹی کی جانب سے وفاقی وزیر صحت کو بھی اخلاقی طور پر مستعفی ہونے کا مشورہ دیا گیا ۔ گزشتہ روز سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا۔ اخلاقی طور پر ہر وہ عہدیدار جو وفاقی دارالحکومت کے اس بدقسمت ہسپتال کے انتظامات اور فیصلہ سازی میں شامل تھا اسے اپنے عہدے سے رضا کارانہ علیحدگی اختیار کرنی چاہیے اور وفاقی حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس نہایت دلخراش وقوعے کی تحقیقات کسی اندرونی یا بیرونی مداخلت سے متاثر نہ ہوں۔

حیرت ہے کہ مذکورہ ہسپتال کے سب سے اہم انتظامی عہدیدار تاحال اسی عہدے پر متمکن ہیں اور عہدہ چھوڑنے کے عوامی مطالبے کو  درخور اعتنا نہیں سمجھ رہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین کے یہ الفاظ مزید تشویش کا باعث ہیں کہ پہلے کہا گیا آگ ایئر کنڈیشنر سے لگی جبکہ پتا چلا ہے ایئر کنڈیشنر تو کام ہی نہیں کر رہا تھا۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کے بیان سے اُن خدشات کا احساس کیا جا سکتا ہے جو ممکنہ طور پر اس المناک سانحے کے اسباب اور ذمہ داران کے اخفا کا سبب بن سکتے ہیں۔ جب انکوائری غیر جانبدار اور بااثر کمیٹی کے بجائے حادثے کا سبب بنے والے ادارے کے اپنے لوگ یا وہ لوگ جو اس سے کسی طرح منسلک ہیں‘ کریں گے تو انکوائری کی شفافیت پر سوال اٹھیں گے‘ اور اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ یہ رویہ حادثے کے اسباب کو سمجھنے اور مستقبل میں ان کا ازالہ کرنے میں کوتاہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ملکِ عزیز کے سرکاری ہسپتالوں میں اس قسم کے المناک واقعات کا یہ پہلا واقعہ نہیں‘ پچھلے چند برسوں میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں اسی طرح نوزائیدہ بچوں کی نرسریاں متاثر ہوئیں اور نونہال لقمہ اجل بن گئے۔ اس بھیانک سلسلے کو روکنا صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس بھیانک وقوعے کے ذمہ داروں کو مثالی سزائیں دی جائیں۔ صرف انکوائری کمیٹیاں بنا دینا کافی نہیں‘ ایسی کمیٹیوں کو نتیجہ خیز بھی ہونا چاہیے اور ان سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں جو اس وقت پاکستان کے ہر شہری کی نوکِ زبان پر ہیں‘ کہ یہ افسوسناک واقعہ کیسے ہوا؟ اسے روکنے کے بندوبست کیوں نہیں ہوئے؟

گزشتہ روز پارلیمان میں خطاب کے دوران ایک رکن نے بڑی پتے کی بات کی کہ ہمارا مسئلہ مالی وسائل نہیں گورننس ہے۔ آئے روز ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو ہمارے نظام میں مضمر خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مالی وسائل یقینا بہت اہم ہیں مگر یہ احساسِ ذمہ داری اور جوابدہی  کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے سرکاری اداروں کے نظام میں مالی وسائل کی قلت بھی مسائل کی وجہ ہو گی مگر ذمہ داری کا احساس اور جوابدہی کا ڈر اگر ہو تو مالی وسائل کی کمی کے باوجود ایسے انتظامات ہو سکتے ہیں جو بدترین سانحات سے بچا سکیں۔ پمز کا بھیا نک وقوعہ یہ سوال چھوڑ گیا ہے کہ ہمارا نظام اس المیے سے کچھ عبرت پکڑے گا یا حادثہ کہہ کر ان معصوموں کی چیخوں کو بھی دبا دینے کی کوشش کی جائے گی؟ جناب مصطفی کمال جو بدستور وفاقی وزارتِ صحت کا قلمدان رکھتے ہیں‘ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بتا رہے تھے کہ روزانہ 1300 بچے موت کا شکار ہوتے ہیں‘ یقینا حکومت کو اس تشویشناک صورت پر بھی توجہ دینا ہو گی‘ مگر یہ سانحہ پمز پر اٹھنے والے سوالات کا جواب نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں