اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

نیپال، سیلاب ایک انتباہ

نیپال میں گلیشیر ٹوٹنے سے آنے والا تباہ کن سیلاب 600 سے زائد انسانی جانیں نگل چکا ہے جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ یہ المناک قدرتی حادثہ پاکستان کیلئے ایک سنجیدہ انتباہ ہے جہاں گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ڈائریکٹر انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی گلگت بلتستان نے تو گزشتہ روز پاکستان کی صورتحال کو نیپال سے بھی زیادہ گمبھیر قرار دیا۔گزشتہ برس مئی میں قومی اسمبلی میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق گلیشیرز کے پگھلنے سے ملک میں تین ہزار سے زائد جھیلیں وجود میں آچکی ہیں‘ جن میں متعدد کسی بھی وقت پھٹ کر تباہ کن سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔

نیپال کے تباہ کن سیلاب نے ہمیں دکھا دیا ہے کہ گلیشیر کے انہدام‘ لینڈ سلائیڈ یا گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کے بعد سیلابی ریلہ اتنی تیزی سے آبادیوں تک پہنچ سکتا ہے کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملتا۔ چنانچہ ملک میں ممکنہ طور پر متاثرہ تمام وادیوں میں جدید ارلی وارننگ سسٹم کی بلاتاخیر تنصیب اور اسے فعال رکھنے کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ علاوہ ازیں ملک میں دریاؤں‘ ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں پر تجاوزات کا خاتمہ‘ غیر محفوظ تعمیرات کی روک تھام اور نئی آبادیوں کی منصوبہ بندی میں سیلابی خطرات کو بنیادی معیار بنانا ہو گا۔ پیشگی تیاری ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے پاکستان نیپال جیسے سانحے کو انسانی المیے میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں