اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سانحہ پمز اور سسٹم کی ناکامی

وفاقی دارالحکومت میں سرکاری شعبے کا سب سے بڑا ہسپتال (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کس طرح مسائل اور بحرانوں کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے اس کا کسی حد تک اندازہ اس تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ سے ہو جاتا ہے جو وزیراعظم کی جانب سے پمز کے شعبۂ زچہ بچہ میں آتش زدگی کے دلخراش وقوعے کی انکوائری کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں۔ وارڈ میں کوئی فائر الارم‘ سپرنکلر سسٹم بھی موجود نہ تھا۔ پمز کے 13ایس اوپیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا‘ یعنی اتنا بڑا ادارہ اس صورتحال کے لیے تیار ہی نہیں تھا حالانکہ صرف ایک ماہ پہلے‘ جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا۔ ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں‘ ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت سپر وائزری سٹاف ڈیوٹی پر موجود نہ تھا۔

واقعے کے وقت دو نرسیں‘ ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے۔ آگ لگنے کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی جبکہ پہلا ایمرجنسی ریسپانس اس کے 15منٹ بعد پہنچا۔ اس ابتدائی رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں کوئی چیز بھی معیار کے مطابق نہیں پائی گئی۔ آزادانہ تحقیق اور اعداد و شمار بھی یہی ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا وجود خوفناک درجے کے انتظامی خلا میں ڈگمگا رہا ہے‘ جس کا ہو سکتا ہے کسی کو احساس بھی نہ ہوتا مگر 26اگست کے اس سانحے نے اس ادارے کے داخلی بحران کو طشت از بام کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہسپتال کے متاثرہ حصے میں آگ بجھانے وا لے  آلات موجود تھے مگر یہ کوئی ایسا نظام نہیں تھا جوآگ یا دھویں کو محسوس کر کے خود کار طریقے سے کام کرنا شروع کر دے۔ ان آلات کو بروقت استعمال کرنے کے لیے وہاں تجربہ کار افراد کا ہونا ضروری تھا مگر اس ایمرجنسی کے وقت جو ڈاکٹر اور نرسیں موقع پر موجود تھیں‘ انہیں آگ بجھانے یا کسی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی کوئی تربیت نہیں تھی؛ چنانچہ صبح چھ بجکر 35منٹ پر جب آگ لگی تو ہسپتال کا عملہ سب سے پہلے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے والوں میں شامل تھا۔

بادی النظر میں ریسکیو 1122 کو آگ کی اطلاع میں تاخیر کی وجہ بھی یہی بنی کہ ہسپتال کا جو عملہ موقع پر موجود تھا اس طرح کے حالات میں سنبھل ہی نہیں پایا۔ بتایا جاتا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی نرسری کو احتیاطاً تالہ لگایا گیا تھا مگر بدقسمتی سے تالے کی چابی جس کے پاس تھی وہ خود موقع پر موجود نہیں تھا۔ کسی ہسپتال کے معاملے میں اس سے بڑی بے احتیاطی نہیں ہو سکتی‘ مگر اسے کسی ایک یا چند ایک افراد کی حرکت باور کرنے کے بجائے حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس واقعے کو نظام کی ناکامیوں کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے۔ ایسا اس لیے ضروری ہے کہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں‘ ہسپتالوں میں اس سے ملتے جلتے واقعات پچھلے چند برسوں کے دوران تواتر سے پیش آئے ہیں‘ ہر واقعے کی انکوائری بھی ہوئی‘ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے لیے سزائیں بھی تجویز کی گئیں مگر پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ یہ اس سسٹم کی ناکامیوں کا ایک واضح ثبوت ہے جس میں احساسِ ذمہ داری اور جوابدہی موجود نہیں اور ہر سانحے کے بعد چند روزہ چیخ پکار اور دوڑ دھوپ کے بعد ہم پھر اسی نظام کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور ایک اور سانحے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔

 پمز کے اس وقوعہ سے کئی روز پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں سسٹم کی ناکامی کا ذکر کیا  تھا‘ اس اندوہناک وقوعے نے اس ناکامی کے ثبوت فراہم کر دیے ہیں‘ اور اس ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ اب ملک میں ایسے چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کیے بغیرچارہ نہیں جہاں ادارے ایگزیکٹو کی براہِ راست اور بہتر نگرانی میں کام کریں۔ پمز میں پیش آنے والا یہ سانحہ بظاہر وسائل کی کمی کا نتیجہ معلوم نہیں ہوتا۔ اب تک کے سبھی شواہد اس وقوعے کو انتظامی بحران اور ذمہ داری اور جوابدہی کے فقدان کا نتیجہ ثابت کرتے ہیں۔ جاپان کی مالی امداد سے قائم کیا جانے والا یہ طبی ادارہ ہمارے  ہاں سرکاری سطح پر مثالی اداروں کو چلانے اور معیار برقرار رکھنے کی ناکافی صلاحیت کی دلیل ہے۔ ایسے کتنے ہی منصوبے گنوائے جا سکتے ہیں جو کسی دوسرے ملک یا عالمی ادارے کی مالی امداد سے شروع کیے گئے‘ اور جن سے یہ امیدیں تھیں کہ  عوامی خدمت اور ملکی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے‘ مگر ان اداروں کی ناکامی نے ان امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ پاکستان سٹیل ملز بھی اس کی ایک مثال ہے۔

روس کے تعاون سے قائم کی جانے والی یہ اپنے وقت کی ایشیا کی سب سے بڑی سٹیل ملز ہمارے ہاتھوں سفید ہاتھی میں تبدیل ہوئی اور قومی خزانے پر بوجھ بن گئی۔ یہ تعجب خیز صورتحال ہمارے لیے سنجیدہ سوالنامہ بن چکی ہے کہ آخر ہمارے ہاتھوں میں آ کر یہ سونے جیسے ادارے مٹی کیوں ہو جاتے ہیں؟ سسٹم کی ناکامی کے سوا بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی‘ اور اس کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے سوا نظر نہیں آتا‘ جہاں وسائل کی نگرانی اور جوابدہی کا عمل زیادہ مؤثر اور یقینی ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں