اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

شدید حبس میں لوڈشیڈنگ

شدید گرمی اور حبس کے اس موسم میں ملک بھر میں چھ سے سولہ گھنٹوں کی طویل لوڈشیڈنگ نے عوام کو ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق لوڈشیڈنگ کی وجہ آر ایل این جی کارگو کی آمد میں تاخیر ہے۔ بالفاظ دیگر یہ بحران ناقص منصوبہ بندی‘ ایندھن کی غیر مربوط ترسیل اور فرسودہ انرجی انفراسٹرکچر کا شاخسانہ ہے‘ جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ دن کے اوقات میں سولر انرجی کے باعث لوڈشیڈنگ کی شدت میں کچھ کمی آتی ہے لیکن سورج ڈھلتے ہی‘ جب عوام کو سکون اور نیند کی ضرورت ہوتی ہے‘ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ دیہی اور زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں صورتحال کہیں زیادہ ابتر ہے۔ ہر سال موسمِ گرما سے قبل حکومت کی جانب سے ریلیف کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن جونہی گرمی کی شدت بڑھتی ہے‘ طویل لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تمام دعوے غلط ثابت کر دیتا ہے۔

حکومت کو اس بحران کو مستقبل کے حوالے سے پائیدار تبدیلی کا پیش خیمہ بناتے ہوئے توانائی سیکٹر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ نیپرا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 17 سے 18 فیصد تک بجلی ترسیل کے دوران ضائع ہو جاتی ہے جبکہ دنیا میں یہ اوسط محض پانچ سے آٹھ فیصد تک ہے۔ اگر ترسیلی نظام کو بہتر بنا لیا جائے تو شارٹ فال کم کیا جا سکتا ہے۔ لائن لاسز کم کرنے اور گرڈ اَپ گریڈیشن سے حالیہ بحران کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ پائیدار حل کیلئے درآمدی ایندھن کے بجائے سستے اور متبادل توانائی ذرائع کا پیداواری حصہ بڑھانا چاہیے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں