اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

صحت اور قومی ترجیحات

صحت کسی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے لیکن ملکِ عزیز میں صحت کا شعبہ حکومتی ترجیحات میں دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت کی جانب سے صحت پر انتہائی کم اخراجات اس کا ایک ثبوت ہیں۔ اکنامک سروے 2025-26ء کے مطابق صحت پر پاکستان کے قومی اخراجات جی ڈی پی کا 0.8فیصد ہیں جو کہ خطے کے دیگر ممالک سے انتہائی کم ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں صحت کے فی کس اخراجات.49 30 ڈالر ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں 53.46 ڈالر‘ نیپال میں تقریباً 84 ڈالر‘ بھارت میں 84.69 ڈالر اور سری لنکا میں 134.24 ڈالر۔ یہ اعداد وشمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں صحت کا شعبہ قومی ترجیحات میں کس مقام پر ہے۔ صحت جیسے اہم ترین شعبے پر کم سرکاری اخراجات کا سب سے نمایاں اثر سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت کی حالتِ زار میں جھلکتا ہے جہاں عمارتوں کی تعمیر ومرمت‘ جدید طبی آلات کی فراہمی‘ ضروری ادویات‘ تشخیصی سہولتوں اور دیگر بنیادی وسائل کی دستیابی بحرانی صورتحال میں رہتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے پر کم اخراجات کی وجہ سے عوام کیلئے ذاتی طبی اخراجات غیر معمولی طور پر بڑھ چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں علاج کیلئے اپنی جیب سے ادا کئے جانے والے اخراجات 60 سے 70 فیصدکے درمیان ہیں۔

یہ صورتحال کم آمدنی والے کنبوں کیلئے بطور خاص تشویشناک ہے جہاں کسی فرد کی بیماری‘ حادثہ یا کوئی طبی پیچیدگی پورے خاندان کے مالی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ بہت سے خاندان علاج کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے قرض لینے اور اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہو تے ہیں اور بہت سے مالی مشکلات کے باعث علاج نامکمل چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں صحت پر اپنی جیب سے کئے جانے والے اخراجات لوگوں کو غربت کی طرف دھکیلنے کا اہم سبب بنتے ہیں۔ جب کوئی خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ علاج پر خرچ کرتا ہے تو خوراک‘ تعلیم‘ رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کیلئے وسائل کم ہو جاتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے صحت پر کم سرمایہ کاری کے اثرات دیہی اور پسماندہ علاقوں پر مزید شدت کے سامنے سامنے آتے ہیں کیونکہ دور دراز علاقوں میں صحت کے مراکز‘ ڈاکٹرز‘ تشخیصی سہولیات اور ادویات کا مسئلہ عوام کو طویل سفر اور مہنگے پرائیویٹ علاج پر مجبور کرتا ہے۔ صحت کی ناقص سہولتوں کا ایک بڑا معاشی اثر انسانی ترقی میں کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بیمار کارکن کام سے غیر حاضر رہتے ہیں‘ بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور خاندانوں کی آمدنی کم ہوتی ہے‘ یوں صحت کے شعبے میں کم سرمایہ کاری بالآخر غربت‘ کم پیداوار اور سست معاشی ترقی کا سبب بنتی ہے۔ صحتمند آبادی کسی بھی ملک کے انسانی سرمائے کی بنیاد ہوتی ہے؛ چنانچہ صحت پر خرچ کو مستقبل کی معاشی ترقی پر سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے۔

قومی ترقی کی مضبوط بنیاد صحت اور تعلیم پر سرمایہ کاری سے ر کھی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں یہ دونوں شعبے نہ اقوام متحدہ کے معیار پر پورا اترتے ہیں اور نہ علاقائی ممالک کے ساتھ برابری قائم کرتے ہیں۔ تاہم مسئلے کا حل صرف بجٹ بڑھانے سے ممکن نہیں۔ اضافی وسائل کے ساتھ ساتھ بہتر مینجمنٹ‘ شفافیت‘ نگرانی اور جوابدہی بھی ضروری ہیں۔ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مالی وسائل کے ساتھ اگر مؤثر نگرانی اور جوابدہی نہ ہو تو صرف روپیہ ان مسائل کا ازالہ نہیں کر سکتا جو ہمارے نظام کی ناکامیوں کے بنیادی اسباب ہیں۔ بجٹ کے اعداد وشمار بڑھانے کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک ایسا مؤثر اور جوابدہ نظام تشکیل دینا بھی ضروری ہے جو ہر شہری کو بروقت‘ معیاری اور قابلِ استطاعت علاج فراہم کر سکے۔ یہی صحتمند‘ پیداواری اور مضبوط پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں