اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

زرعی برآمدات، امکانات

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی و غذائی شعبے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو محض ایک تجارتی مفاہمت نہیں بلکہ پاکستان کیلئے ایک بڑے برآمدی موقع کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سعودی وفد کے دورۂ اسلام آباد کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے آئندہ دو برس کے دوران پاکستان کی سعودی عرب کو زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمدات کو تین ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان سعودی عرب کو چاول‘ گوشت‘ پھل‘ پراسیسڈ فوڈ اور سبز چارہ برآمد کرے گا۔سعودی عرب پاکستان کیلئے ایک بڑی اور قریبی غذائی منڈی ہے‘ مگر اس کے باوجود ہم اس موقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

اس تناظر میں تین ارب ڈالر سالانہ برآمدات کا ہدف غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے نہ صرف زرِمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ پاکستانی زراعت‘ لائیو سٹاک‘ فوڈ پروسیسنگ‘ پیکیجنگ اور کولڈ چین کو بھی وسعت مل سکتی ہے۔ تاہم معاہدے اور اعلامیے اپنی جگہ لیکن تین ارب ڈالر کا ہدف پیداوار‘ معیار اور برآمدی استعداد میں عملی بہتری کے بغیر حاصل نہیں ہو گا۔ اس ضمن میں حکومت کو سعودی فوڈ سیفٹی اور معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ سرٹیفکیشن‘ جدید پیکجنگ‘ کولڈ چین‘ ٹریس ایبلٹی‘ سٹوریج‘ تیز تر کسٹمز اور مستقل برآمدی سپلائی چین یقینی بنانا ہوگی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں