اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مکہ دفاعی معاہدے کا روڈ میپ

پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سات اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے عملی نفاذ کیلئے استنبول میں منعقدہ پہلا سہ ملکی اجلاس خطے کی سٹرٹیجک بساط پر گہرے نقوش مرتب کرے گا۔ مکہ دفاعی معاہدے کے عملی روڈ میپ کی تیاری کیلئے سٹرٹیجک‘ سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس بدلتے عالمی نظام میں مسلم دنیا کے طاقتور اور بااثر ممالک کی طرف سے اپنی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانے کے مربوط اور منظم عزم کا اظہار ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ بیرونی مداخلت اور علاقائی جنگوں کا اکھاڑا بنا ہوا ہے اور عالمی سیاسی منظرنامے میں یونی لیٹرل کے بجائے ریجنل ڈیفنس کا تصور ابھرا ہے‘ پاکستان کی جوہری صلاحیت‘ ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے وسیع مالیاتی وسائل کو یکجا کر کے تینوں ملکوں کیلئے ناقابلِ تسخیر دفاع کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ یہ خطے میں بھی امن و استحکام کی ضمانت بنے گا۔ استنبول اجلاس میں مستقل سیکرٹریٹ کے فریم ورک پر کام کا آغاز یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ اتحاد مستقل اور ادارہ جاتی شکل اختیار کیا چاہتا ہے۔

اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ‘ وزرائے دفاع اور اعلیٰ عسکری قیادت کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ یہ پیشرفت سفارتی اور عسکری سطحوں پر مکمل ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ تینوں ملکوں کے اعلیٰ حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کیخلاف نہیں‘ تاہم عالمی مبصرین اس اقدام کو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے سٹرٹیجک مفادات کیلئے مختلف خطوں میں عدم استحکام پیدا کرتی رہتی ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت بین الاقوامی ادارے کمزور ریاستوں کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔ اس تناظر میں بیرونی بیساکھیوں پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے خود کفالت اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکاہے۔ استنبول اجلاس میں جس روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا‘ اس کا بڑا حصہ دفاعی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق ہے۔ ترکیہ نے گزشتہ دہائی میں ڈرون ٹیکنالوجی‘ بحری جہاز سازی اور جدید فضائی دفاعی نظام میں دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔

پاکستان کے پاس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی‘ ایٹمی صلاحیت اور ایک انتہائی تجربہ کار فوج موجود ہے۔ سعودی عرب ویژن 2030ء کے تحت دفاعی شعبے میں خودکفالت کیلئے کوشاں ہے۔ جب تینوں ملکوں کی خصوصیات ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت یکجا ہوں گی تو اس سے نہ صرف ان ممالک کا دفاعی انحصار مغربی دنیا پر کم ہوگا بلکہ دفاعی خود مختاری کی طرف یہ ایک بڑی جست ہو گی۔ مشترکہ فوجی مشقوں اور انٹیلی جنس شیئرنگ سے دہشت گردی اور غیر روایتی جنگی خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ سفارتی ذرائع یہ اشارہ بھی دے رہے کہ دفاعی معاہدے کے خدوخال واضح ہونے کے بعد اس اتحاد کو مزید وسعت دی جائے گی۔ ایفرو عرب ریجن کے بڑے ملک مصر کے علاوہ جنوبی ایشیا سے بنگلہ دیش بھی اس اتحاد میں شمولیت کا عندیہ دے چکا ہے۔

اگر یہ ممالک بھی اس اتحاد کا حصہ بن جاتے ہیں تو بلاشبہ یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا اور مؤثر دفاعی بلاک بن جائے گا‘ جو خطے میں توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور خلیج عرب اور بحیرہ روم کے خطوں میں سکیورٹی کی حرکیات کو بھی بدل کر رکھ دے گا۔ مکہ دفاعی معاہدہ اور اس کا استنبول روڈ میپ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلم دنیا اب اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے۔ اگر یہ روڈ میپ اپنی روح کے ساتھ نافذ العمل ہو جاتا ہے تو نہ صرف تینوں برادر ممالک کی بقا اور سلامتی کو یقینی بنائے گا بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک محفوظ‘ مستحکم اور خود مختار خطے کی نوید بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں