پاکستان کی جیت
ہیگ کی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ عدالت نے بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں زیر تعمیر رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی دیوار اور پاور اِنٹیک ڈھانچے کو مخصوص سطح سے اوپر تعمیر کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے چار مارچ 2026ء کو بھارت کے اقدامات کے خلاف دائر کی گئی درخواست کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ فیصلے کے مطابق سندھ طاس معاہدہ نافذالعمل ہے اور بھارت اس کے تحت عائد اپنی تمام ذمہ داریوں کی پابندی کا بدستور پابند ہے۔ یہ پاکستان کے مؤقف کی واضح جیت ہے۔ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے خطے میں آبی امن کی بنیاد ہے۔

لیکن اب بھارتی ہٹ دھرمی صرف پاکستان کے آبی حقوق کیلئے ہی خطرہ نہیں بلکہ بین الاقوامی معاہدوں اور قانون کی بالادستی کیلئے بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔ بھارت کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ دریاؤں کے پانی کو سیاسی تنازع میں تبدیل کرنا کسی فریق کے مفاد میں نہیں۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی کشیدگی‘ غربت‘ ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنا خطے کو ایک نئے اور خطرناک بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ عالمی عدالت کا فیصلہ ایک واضح پیغام ہے‘ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پیغام کو عملی حقیقت بنایا جائے تاکہ یہ خطہ کسی نئی آبی جنگ سے محفوظ رہے۔