اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی کا دبائو برقرار

پاکستان میں مہنگائی کا گراف بلند تر ہوتا جا رہا ہے جس نے عوام کی کمر دہری کر کے رکھ دی ہے۔ ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح 0.65 فیصد اضافے کے بعد 8.35 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ ایک ہفتے کے دوران آٹا‘ گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ غریب کی بنیادی خوراک کہلانے والا پیاز ایک ہفتے میں 26 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 162 فیصد مہنگا ہوا۔اہم بات یہ ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح دہرے ہندسے میں داخل ہو چکی اور اگست میں شرح گرانی 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال اگست کی شرح 3.1 فیصد اور گزشہ ماہ (جولائی) کی شرح 9.2 فیصد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اس بے لگام مہنگائی کے بنیادی اسباب ڈھکے چھپے نہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں گرانی کی لہر کا سب سے بڑا سبب ہیں۔

جب تک توانائی کی لاگت کم نہیں ہوتی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام لانا مشکل ہے۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت بجلی و پٹرول کی قیمتوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرے۔ علاوہ ازیں مارکیٹ کمیٹیوں کو فعال کرنا اور ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات مارکیٹ نظم کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی جگہ ضروری ہیں۔ اگر اب بھی ہنگامی بنیادوں پر فیصلے نہ کیے گئے تو مہنگائی کا بڑھتا معاشی بوجھ ایک بڑے سماجی بحران میں بدل سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں