اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مستحکم پاکستان کی بنیاد

وزیراعظم شہباز شریف کے یومِ دفاع کے موقع پر جاری کئے گئے خصوصی پیغام میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ جہالت‘ غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس میں دو رائے نہیں‘ نیز یہ بھی واضح ہے کہ پر امن‘ مستحکم اور معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہی ہماری حقیقی طاقت بن سکتا ہے‘ مگر اس کیلئے محض اعلانات کافی نہیں بلکہ مستقل اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر امن واستحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پاکستان نے خطے میں امن وسلامتی کیلئے تعاون‘ مکالمے اور مشترکہ اقدامات کو ہمیشہ ترجیح دی ہے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی علاقائی سلامتی میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار اور برادر ممالک کے ساتھ اجتماعی دفاع وباہمی سلامتی کے عزم کا مظہر ہے۔ تاہم بیرونی محاذ پر فعال کردار کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر سماجی وسیاسی استحکام اور انفرادی واجتماعی ترقی کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا ہو گا۔

اس وقت سماجی اور افرادی ترقی کی صورتحال کا ذکر کیا جائے تو یہ کوئی اچھی تصویر پیش نہیں کرتی۔ پاکستان میں تعلیم اور صحت پر حکومتی اخراجات خطے کے ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔ ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ جبکہ بچوں میں غذائی قلت اور سٹنٹنگ ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکی ہے۔بیروزگاری کی شرح 2020-21ء اور 2024-25ء کے درمیان 6.3 فیصد سے بڑھ کر 6.9 فیصد ہو گئی۔ خواتین اور نوجوانوں کو بیروزگاری کی بلند ترین سطح کا سامنا ہے۔نوجوانوں (15 تا 24 سال) کی بیروزگاری 12.5 فیصد ہے اور خواتین میں یہ شرح 13 فیصدسے زیادہ ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کی تصویر ہیں۔ جو قوم اپنے بچوں کو معیاری تعلیم‘ صحت اور بنیادی سہولتیں اور نوجوانوں کو روزگار فراہم نہ کر سکے اس کیلئے طویل المدت معاشی اور سماجی ترقی کا سفر مشکل ہو جاتا ہے۔ امن وامان کی صورتحال اور قانون کی حکمرانی بھی قومی ترقی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

سرمایہ کاری‘ صنعت اور کاروبار اسی ماحول میں فروغ پاتے ہیں جہاں قانون سب کیلئے برابر ہو‘ ادارے مؤثر ہوں اور شہری خود کو محفوظ سمجھیں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے انتظامی کمزوریاں اور پالیسیوں کا عدم تسلسل معاشی سرگرمیوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں صنعتی اور گھریلو صارفین دونوں کیلئے غیر معمولی مسئلہ بن چکی ہیں۔ بجلی‘ گیس اور تیل پر عائد بھاری ٹیکس اور دیگر اخراجات مجموعی لاگت میں اضافہ کرتے ہیں جس سے پاکستان میں صنعتی پیداواری لاگت کئی مسابقتی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ جب مقامی صنعتی پیداوار مہنگی ہو گی تو عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کیلئے مقابلہ کرنا مشکل ہو گا۔ برآمدات میں اضافہ اور صنعتی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب توانائی کی لاگت‘ ٹیکس نظام اور کاروباری ماحول کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر بہتر بنایا جائے۔

پاکستان کو غربت‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ کمزور حکمرانی اور معاشی پسماندگی کے خلاف پُرعزم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے حکومت کو تعلیم‘ صحت‘ صاف پانی‘ امن وامان‘ قانون کی حکمرانی‘ توانائی کی قیمتوں اور صنعتی شعبوں میں واضح اہداف مقرر کرنا ہوں گے۔ صرف تقریروں اور وعدوں سے ملک مضبوط ہو سکتا تو یہ مسائل سرے سے موجود ہی نہ ہوتے۔ آج ہم جس صورتحال میں ہیں‘ مزید وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ قوم کو نتائج چاہئیں۔ اگر حقیقی معنوں میں قومی ترقی کو یقینی بنانا ہے تو حکومت‘ سیاسی قیادت‘ اداروں اور معاشرے سب کو اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ مضبوط دفاع کے ساتھ مضبوط معیشت‘ معیاری تعلیم‘ بہتر صحت‘ قانون کی حکمرانی اور خوشحال شہری ہی ناقابلِ تسخیر پاکستان کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں