اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے خلاف عزم

خیبر پختونخوا کے اضلاع کوہاٹ‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ شمالی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش کرنے والے دس دہشت گردوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کامیابی سے جاری ہیں اور حالیہ دنوں میں 48 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ امن و امان کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ایک ملکی تھنک ٹینک کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق رواں سال اگست میں دہشت گردی کے حملوں کی تعداد 199 رہی‘ جو جولائی میں 144 حملوں کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم حملوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود جانی نقصان میں کمی سکیورٹی اداروں کی کامیاب حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مغربی سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کا ایک بڑا سبب ان کا افغانستان سے ملحق ہونا ہے‘ جہاں دہشت گردوں کو ہر طرح کی مالی اور مادی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ عسکری سطح پر سکیورٹی فورسز بے پناہ قربانیاں دے کر دہشت گردوں کا صفایا کر رہی ہیں لیکن پائیدار امن کیلئے محض عسکری طاقت کافی نہیں ہے۔ دہشتگردی کے خلاف پختہ عزم اب سفارتی‘ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی نظر آنا چاہیے۔ جب تک پوری قوم اور سیاسی قیادت مل کر داخلی محاذ کو مضبوط نہیں بنائیں گے بیرونی سازشوں اور سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں