پٹرولیم قیمتیں اور عوامی مشکلات
گزشتہ پانچ روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 30 اور ڈیزل کی قیمت میں 25 روپے فی لٹر سے زائد اضافے کی وجہ سے پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں 15فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ کھیت سے منڈی‘ اور منڈی سے دکانوں اور گھروں تک پہنچنے والی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر بھی اضافی بوجھ منتقل ہو گا۔ نتیجتاً عوام کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پٹرولیم مصنوعات معیشت کے تقریباً ہر شعبے کی بنیاد ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے صنعتی شعبے میں خام مال‘ تیار مصنوعات اور مشینری کی نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے‘ جس سے پیداواری لاگت بڑھتی اور بالآخر صارف کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

زرعی شعبہ میں بھی ٹریکٹر‘ ٹیوب ویل‘ ہارویسٹر اور زرعی اجناس کی ترسیل سب ایندھن کے نرخوں سے متاثر ہوتے ہیں؛ چنانچہ مہنگا ڈیزل کسان کی لاگت اور صارف کی خوراک‘ دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس صورتحال میں عام آدمی ہر طرف سے دباؤ میں ہے۔ اشیائے خورونوش اس کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں‘ بجلی کے بل پہلے ہی بجٹ نچوڑ رہے ہیں اور اب روزمرہ سفر بھی مزید مہنگا ہو رہا ہے۔ حکومت اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا پورا بوجھ خود برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم اس مرحلے پر پٹرولیم لیوی‘ مارجنز اور دیگر محصولات میں عارضی کمی ضرور کرے۔