ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش
انگلینڈ نے گزشتہ روز تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے آخری میچ میں پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر نہ صرف سیریز اپنے نام کر لی بلکہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کو اپنی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کیا۔ انگلینڈ کے ہاتھوں تاریخی وائٹ واش محض ایک سیریز کی شکست نہیں بلکہ قومی کرکٹ کے نظام کیلئے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ قومی ٹیم بیٹنگ‘ باؤلنگ اور فیلڈنگ‘ کسی بھی شعبے میں میزبان ٹیم کا مقابلہ کرنے کے قابل نظر نہیں آئی۔ ایک میچ یا ایک سیریز کی شکست کو محض خراب دن قرار دیا جا سکتا ہے‘ لیکن جب مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو پھر معاملے کا سنجیدہ جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی ٹیسٹ فارمیٹ میں پرفارمنس گزشتہ کچھ برسوں سے انتہائی ناقص رہی ہے جبکہ 1992ء کے بعد کوئی ون ڈے ورلڈ کپ اور 2009ء کے بعد کوئی ٹی20 ورلڈ کپ نہیں جیت سکا۔

حکومت کرکٹ کو دیگر کھیلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ توجہ اور وسائل فراہم کرتی ہے‘ ایسے میں یہ سوال بجا طور پر اٹھتا ہے کہ اگر وسائل کی کوئی کمی نہیں تو پھر نتائج کیوں نہیں آ رہے؟ کرکٹ انتظامیہ کو شکست کے بعد محض کھلاڑی تبدیل کرنے کے بجائے سلیکشن‘ کوچنگ‘ ڈومیسٹک کرکٹ اور فٹنس کے پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ اسی طرح کھلاڑیوں کو ٹیم میں صرف میرٹ کی بنیاد پر جگہ دی جائے۔ جن شعبوں میں کھلاڑیوں کی تربیت اور تیاری میں خامیاں ہیں انہیں دور کیا جائے۔ اگر اب بھی اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل میں مزید ایسی ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔